خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 229 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 229

خطبات محمود ۲۲۹ سال ۱۹۳۱ء کو رہنے دیں حالانکہ اگر واقعی دید خدا کی طرف سے ہیں تو بیوی اور بچوں کا ذکر آنے سے ڈرنا کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔مگر وہ میرے بار بار اصرار کے باوجود یہی کہتے رہے کہ یہ طریق ٹھیک نہیں بیوی بچوں کا ذکر نہیں آنا چاہئے۔میں نے کہا بہت سے انسان اپنے اوپر لعنت لینے کو تیار ہو جاتے ہیں مگر اپنے بیوی اور بچوں پر لعنت پڑنا گوارا نہیں کر سکتے۔گو ایسے بھی انسان ہوتے ہیں جو باوجود جھوٹے ہونے کے اپنے بیوی بچوں پر بھی لعنت ڈال لیتے ہیں مگر ایسے انسان ہزار میں سے ایک کی نسبت سے ہوں گے۔مگر باوجود میرے متواتر کہنے کے وہ اس طرح کی قسم کھانے پر آمادہ نہ ہوئے۔اب تک ہمارے مخالفین کے سامنے جب بھی مباہلہ کا سوال آیا ہے انہوں نے ایسی ایسی باتیں کیں جو شریعت کے خلاف تھیں۔کبھی تو کہہ دیا کہ مباہلہ کے بعد فریق مخالف کی شکلیں سوریا بندر کی ہو جائیں ، کبھی کہہ دیا ایک منٹ میں عذاب آجائے ، کبھی کہہ دیا کڑاہ میں کو دجاؤ۔یا مینار سے کود پڑی جو بچ جائے وہ سچا، کبھی کہہ دیا ہم مباہلہ میں تب شامل ہوں گے جب مباہلہ کے بعد ہفتہ عشرہ کے اندر اندر نتیجہ نکل آئے۔کبھی ایسے ایسے عذابوں کی خواہش کی جن کا بھیجنا اللہ تعالیٰ کی سنت کے خلاف ہے غرض ہمیشہ ہمارے مخالفین نے دعوت مباہلہ کو کئی قسم کے بہانوں سے ٹالا اور کوشش کی کہ یہ پیالہ ان کے سامنے سے ہٹ جائے مگر کتنا بڑا اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ ہماری جماعت اس دعوت میں شامل ہونے کے لئے بے قرار ہے اور وہ التجائیں کرتی ہے کہ مباہلہ سے انہیں محروم نہ رکھا جائے۔یہ جوش اور اخلاص جو اللہ تعالٰی نے صداقت کے اظہار کے لئے ہماری جماعت کو بخشا ہے اپنی ذات میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کا ایک بہت بڑا نشان ہے۔اور اگر کوئی سوچنے والا ہو تو اس کے لئے اس جوش اور اخلاص کو دیکھ کرہی سلسلہ کی صداقت پر ایمان لانا کچھ مشکل نہیں رہتا۔اس کے بعد میں استخارہ کے متعلق کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں۔قادیان کے بعض لوگوں کو بھی اور باہر بھی بعض دوستوں کو اس کے متعلق غلط فہمی ہوئی ہے انہوں نے خیال کیا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی صداقت یا وفات مسیح ایسی کچی باتیں جن کے متعلق ہمار ا یقین ہے کہ یہ درست ہیں ان کے لئے استخارہ کرنا کوئی معنی نہیں رکھتے مگر دراصل انہوں نے سمجھا نہیں۔استخارہ اللہ تعالیٰ کی ان عظیم الشان نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے جو دو سرے مذاہب کو حاصل نہیں۔باقی جس قدر مذاہب ہیں ان میں دعا ئیں پائی جاتی ہیں مگر استخارہ مسنونہ کا طریق ان میں نظر