خطبات محمود (جلد 13) — Page 222
خطبات محمود ۲۲۲ سال ۱۹۳۱ء ہے کہ جماعت نے اس طرف توجہ کی ہے بلکہ بعض جماعتوں نے تو باقاعد؟ کے لئے باجماعت تہجد پڑھنی شروع کر دی ہے۔قادیان والوں کو باہر والوں سے ہر گز پیچھے نہیں رہنا چاہئے۔اگر چہ میں نے سنا ہے یہاں بھی کوشش کی جاتی ہے لیکن اگر ان جگہوں پر جہاں ممکن ہو مثلا بورڈنگ ہاؤسوں میں یا مہمان خانہ میں باجماعت تجد کا انتظام کر دیا جائے تو بہت اچھا ہو گا۔باجماعت تہجد ناجائز نہیں۔رسول کریم مال الملک کے زمانہ میں جب صحابہ آکر تہجد کی نماز میں شامل ہو جاتے تو آپ نے اسے ناپسند کرنے کی وجہ سے نہیں روکا بلکہ منع کرتے ہوئے فرمایا خداتعالی کو یہ اس قدر پسند ہے کہ مجھے خطرہ ہے کہ اسے فرض نہ بنا لیا جائے۔پس اگر ان جگہوں پر جہاں ممکن ہو با جماعت تحجد کا انتظام کر لیا جائے تو زیادہ روحانیت پیدا ہوگی اور اصل مقصد یہی ہوتا ہے کہ روحانیت کو دنیا میں پھیلائیں۔(الفضل ۱۷ جولائی ۱۹۳۱ء) ا بخارى كتاب التهجد باب تحريض النبي صلى الله عليه وسلم في قيام الليل والنوافل من غير ايجاب۔۔۔۔۔