خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 221 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 221

خطبات محمود ۲۲۱ سال ۱۹۳۱ء - باقی کو اگر کوئی مبصر پڑھے تو صاف معلوم ہو گا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرز تحریر کی نقل کی ہے۔مگر جدید مصنفوں کی تحریروں میں یہ بات نہیں بلکہ ان کی طرز ایسی ہے کہ معلوم ہوتا ہے دوسروں کو ہنسانا یا ڈرانا مد نظر ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریروں کی روانی کی مثال ایسی ہے جیسے پہاڑوں پر بر سا ہوا پانی بہتا ہے بظاہر اس کا کوئی رخ معلوم نہیں ہو تا مگر وہ خود اپنا رخ بناتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریروں میں الہی جلال ہے اور وہ تصنع سے بالا ہے۔جس طرح پہاڑوں کے قدرتی مناظران تصویروں سے کہیں زیادہ دلفریب ہوتے ہیں جو انسان سالہا سال کی محنت سے تیار کر کے میوزیم میں رکھتا ہے۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی عبارت بھی سب سے فائق ہے۔انسان کتنی محنت سے پہاڑ کی تصویر تیار کرتا ہے مگر کیا وہ پہاڑ کے اصل نظاروں کا کام دے سکتی ہے۔لاکھوں روپیہ کے صرف سے سمندروں کی تصویر میں تیار کی جاتی ہیں۔مگر سمند رجوش میں ہو تو کیا اس وقت کے نظاروں کا کام تصویر دے سکتی ہے۔تصویر کے اندر نہ وہ دلکشی ہو سکتی ہے اور نہ ہیبت و شوکت۔اسی طرح باقی سب تحریریں تصویر میں ہیں۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریرات قدرتی نظارہ۔اس لئے اگر خداتعالی توفیق دے تو خدائی نظارہ کی نقل کرد تا تمہارا اپنا نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کا قانون دنیا میں پھیلے۔ابھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے قرب کا زمانہ ہے اس وقت کئی باتیں قومی شعار بنائی جاسکتی ہیں جن کا بعد میں بنانا مشکل ہو گا۔کیونکہ ایک تو دور دراز مقامات اور ممالک میں جماعتیں پھیل جائیں گی اور دوسرے لوگ بھی ایک رنگ کے عادی ہو جائیں گے۔رسول کریم سے قبل کے زمانہ کے اشعار اگر دیکھیں تو ان میں لفاظی بہت نظر آئے گی مگر آپ کے زمانہ اور زمانہ مابعد میں مسلمان شعراء کے کلام میں لفاظی چھوڑ قرآن کریم والی سلاست کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔اللہ تعالیٰ کے انبیاء کی آمد سے دنیا کا نقشہ بدل جاتا ہے اور لٹریچر بھی بدل جاتا ہے۔پس ہمارا فرض ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے تتبع میں دنیا کا لٹریچر بدل ڈالیں تا ہر انسان آپ کی اس خوبی کا بھی اعتراف کرے۔اس کے علاوہ روحانی تبدیلیاں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دنیا میں پیدا کیں انہیں بھی اپنے اندر پیدا کرنا چاہئے۔میں نے تحریک کی تھی کہ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب تہجد پڑھی جائے۔قادیان کے متعلق تو مجھے معلوم نہیں یہاں کیا حال ہے ہاں باہر سے جو خطوط آتے ہیں ان سے معلوم ہوتا