خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 217 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 217

خطبات PIZ 24 سال ۱۹۳۱ء حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے طرز تحریر کی تقلید کرو (فرموده ۱۰- جولائی ۱۹۳۱ء) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وجود تے دنیا میں جو بہت سی برکات ظاہر ہوئی ہیں ان میں سے ایک بڑی برکت آپ کا طرز تحریر بھی ہے۔جس طرح حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کے الفاظ جو ان کے حواریوں نے جمع کئے ہیں یا کسی وقت بھی جمع ہوئے ان سے آپ کا خاص طرز انشاء ظاہر ہوتا ہے اور بڑے بڑے ماہرین تحریر اس کی نقل کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کا طرز تحریر بھی بالکل جداگانہ ہے۔اور اس کے اندر اس قسم کی روانی ، زور اور سلاست پائی جاتی ہے کہ باوجود سادہ الفاظ کے باوجود اس کے کہ وہ ایسے مضامین پر مشتمل ہے جن سے عام طور پر دنیا ناواقف نہیں ہوتی اور باوجود اس کے کہ انبیاء کا کام مبالغہ ، جھوٹ اور نمائشی آرائش سے خالی ہوتا ہے اس کے اندر ایک ایسا جذب اور کشش پائی جاتی ہے کہ جوں جوں انسان اسے پڑھتا ہے ایسا معلوم ہوتا ہے الفاظ سے بجلی کی تاریں نکل نکل کر جسم کے گرد لپٹتی جارہی ہیں۔اور جس طرح جب ایک زمیندار گھاس والی زمین پر ہل چلانے کے بعد کہا کہ پھیرتا ہے تو سہاگہ کے ارد گرد گھاس پنتا جاتا ہے اسی طرح معلوم ہوتا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریر انسانوں کے قلوب کو اپنے ساتھ لپیٹتی جارہی ہے۔اور یہ انتهاء درجہ کی ناشکری اور بے قدری ہوگی اگر ہم اس عظیم الشان طرز تحریر کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے طرز تحریر کو اس کے مطابق نہ بنائیں۔میں تو عام طور پر دیکھتا ہوں کہ دانستہ یا نادانستہ طور پر دنیا اس طرز تحریر کو قبول کرتی جارہی ہے۔جس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ