خطبات محمود (جلد 13) — Page 216
خطبات محمود ۲۱۶ سال ۱۹۳۱ء گے کہ یہ اتفاق نہیں بلکہ خارق عادت قدرت کا ظہور ہے۔اکیلے آدمی کے متعلق شبہات دلوں میں رہ سکتے ہیں۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ایک ایک آدمی کے ساتھ مباہلے ہوئے اور ان لوگوں کو عذاب بھی آیا اور بعض لوگ مر بھی گئے مگر لوگوں نے یہی کہا کہ ایسے واقعات ہوتے ہی رہتے ہیں۔رسول کریم میں یہ بھی تو مسیلمہ کذاب کی زندگی میں فوت ہو گئے تھے لیکن اگر کثیر تعداد میں لوگ مباہلہ کے لئے نکلیں اور ان میں سے اکثر عذاب الہی کا نشانہ بن جائیں تو پھر شک اور شبہ کی گنجائش نہیں رہتی۔چنانچہ رسول کریم میں کی لڑائیوں میں ایک نمایاں بات پائی جاتی تھی اور وہ یہی کہ رسول کریم میل کے لشکر کے مقابلہ میں بڑے بڑے لشکر اٹھتے اور شکست کھا جاتے۔ان سے اکثر مارے یا قید کر لئے جاتے۔مگر رسول کریم کے لشکر میں تھوڑے ہی مارے جاتے اور قلیل ہی زخمی ہوتے۔یہ نمایاں فرق اتنا بڑا نشان ہو تا ہے جس سے دشمن حیران رہ جاتا ہے۔پس کثیر تعداد پر جو عذاب الہی نازل ہو تو وہ ایسے رنگ میں نازل ہوتا ہے جو مومنوں کے لئے اطمینان قلب کا باعث اور ان کے ایمانوں کی زیادتی کا موجب ہو تا ہے۔مگر ایک فرد پر اگر عذاب نازل ہو تو منافقین اس میں سے اعتراض کی راہ نکال لیتے ہیں اور اس طرح مباہلہ کا اثر فوت ہو جاتا ہے۔اگر ایک شخص کو کوئی سخت ذلت پہنچے تو وہ کہہ سکتے ہیں اسے ہم عذاب تسلیم نہیں کرتے۔لیکن اگر ایک طرف انہیں یہ نظر آئے کہ ہزار میں سے دس یا پندرہ کو کوئی معمولی سی تکلیف پہنچی ہے مگر دوسری طرف ہزار میں سے پانچ سو یا سات سو عذاب الہی کا شکار ہو گیا ہے تو لوگ محسوس کرتے ہیں کہ صداقت اسی طرف ہے جس طرف اللہ تعالی کی تائید شامل حال رہی۔پس میں اعلان کرتا ہوں کہ قادیان اور بیرو نجات سے بھی جو دوست مباہلہ میں شامل ہونا چاہیں وہ نور اختیار ہو جائیں۔اور استخارہ کرنے کے بعد اپنے اپنے نام پیش کریں۔اور میں سمجھتا ہوں یہ ایک مبارک موقع ہے جو خدا نے ہماری جماعت کے لئے پیدا کر دیا۔استخارہ ایک ایک رات کا بھی کافی ہے۔پس استخارہ کے بعد دوست اپنے نام پیش کر دیں تا جلد سے جلد یہ لسٹ مکمل کر کے شائع کر دی جائے۔(الفضل 11 جولائی ۱۹۳۱ء) لا تذكرة صفحه ۵۳۸ طبع چهارم که مسند احمد بن حنبل جلد ۲ صفحه ۱۳۲ ال عمران: ۷۲