خطبات محمود (جلد 13) — Page 147
خطبات محمود ۱۴۷ سال ۱۹۳۱ء ذمہ داریاں مدینہ کو رسول کریم ﷺ کی آمد کی وجہ سے خصوصیت حاصل ہونے کے ساتھ ہی بڑھ گئیں اور اہل مدینہ نے اپنی ذمہ داریوں کو خوب نباہا۔اسی طرح اللہ تعالیٰ نے مختلف فضیلتیں مختلف مقامات کو دیں ہیں۔مجھے آج اس مسجد میں داخل ہوتے ہوئے خیال آیا کہ منصوری کو بھی ایک خاص فضیلت حاصل ہے اور وہ یہ کہ ہندوستان میں صرف یہی ایک پہاڑی مقام ایسا ہے جہاں احمدیوں کی مسجد ہے۔شملہ میں جماعت ہے لیکن اس کی کوئی مسجد نہیں دارجلنگ میں جماعت ہے لیکن وہاں کی جماعت کے پاس بھی کوئی مسجد نہیں۔ڈلہوزی میں بھی ہماری جماعت کے لوگ جاتے رہتے ہیں لیکن وہاں بھی احمدیوں کی کوئی مسجد نہیں لیکن اس جگہ مسجد ہے جس کی وجہ سے یہاں کی جماعت کی ذمہ داریاں بھی بڑھ گئی ہیں کیونکہ مسجد کی آبادی بھی ضروری ہوتی ہے۔خانہ کعبہ کو پاک رکھنے اور آباد کرنے کا فرض وہاں کے لوگوں کے لئے مقرر کیا گیا تھا۔یہاں کی جماعت پر مسجد کی آبادی اور تبلیغ کی ذمہ داری اور پہاڑی مقامات کی نسبت زیادہ عائد ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ کا گھر ہمیشہ بڑھا کرتا ہے۔حضرت مسیح موعود فرمایا کرتے تھے کہ خدا کے گھر ہمیشہ بڑھتے رہتے ہیں۔جب قادیان میں مسجد اقصیٰ کے پاس ایک اونچا مکان ہندوؤں کا بنے لگا تو بعض دوستوں کو بہت برا محسوس ہوا اور انہوں نے کہا ایسا مکان مسجد کے ساتھ نہیں بننا چاہئے جو اس کی ترقی میں روک ہو۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا مسجد خدا کے فضل سے ترقی کرے گی اور بڑھ جائے گی اس لئے یہ مکان بھی مسجد کے ساتھ شامل ہو جائے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے یہ الفاظ سننے والے موجود ہیں۔اس مکان کا ایک حصہ خرید لیا گیا اور اب باقی حصہ بھی اسی ماہ میں خرید لیا گیا ہے۔اب یہ مکان یا تو مسجد کے ساتھ شامل کر لیا جائے گایا سلسلہ کے اور کاموں کے لئے استعمال ہوگا۔میں سمجھتا ہوں کہ منصوری کی احمد یہ مسجد کے آباد کرنے کی اگر ہماری جماعت کے لوگ کوشش کریں تو ضروری ہے کہ اس مسجد کے اظلال بھی ارد گرد کے علاقے میں پیدا ہو جائیں۔رسول کریم میم نے فرمایا ہے اتي اخرُ الأَنْبِيَاءِ وَإِنَّ مَسْجِدِى اخرُ الْمَسَاجِدِ اس سے مراد یہی ہے کہ اور مساجد جو دنیا میں بنیں گی وہ حضرت نبی کریم ﷺ کی مسجد کا ظل ہوں گی۔اسی طرح ممکن ہے کہ یہاں کے لوگوں کے اخلاص میں اللہ تعالٰی برکت دے اور اس مسجد کے اظلال کے طور پر ارد گرد کے علاقے میں احمدی مساجد قائم ہو جائیں۔دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ بڑے لوگوں کی چیزوں کی لوگ قدر اور حفاظت کرتے ہیں اسی ا