خطبات محمود (جلد 13) — Page 110
سال ۱۹۳۱ء اس روح کو پیدا کر لیں تو ہماری جماعت کے اندر کبھی جھگڑے اور فسادا۔پیدا نہ ہوں۔اور اب تو ہماری جماعت روحانی بلوغت کو پہنچ چکی ہے اب ہمارے اندر قربانی کا زیادہ مادہ ہونا چاہئے اور اپنے جھگڑے اور فسادات کو جس حد تک کم ہو سکیں کم کرنا چاہئے۔اللہ تعالٰی ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم اس کے حکموں پر عمل کریں اور ہمارے اندر نیکی تقومی اور صلاحیت کی روح پیدا ہو اور جھگڑے اور فسادات ہمارے اندر سے دور ہو جائیں۔حضور جب دوسرے خطبہ کے لئے کھڑے ہوئے تو ایک صاحب نے کھڑے ہو کر دریافت کیا حضور جس شخص کے جماعت سے اخراج کا حضور نے اعلان کیا ہے اس کا نام کیا ہے ؟ اس پر کسی نے کہہ دیا خطبے میں نہیں بولنا چاہئے۔حضور نے اس پر مسکراتے ہوئے فرمایا ) ایک پر انا لطیفہ تھا وہی اب ہو گیا۔خطبے میں بولنا منع ہے مگر ایک صاحب بول ہی پڑے۔جس شخص کا میں نے ذکر کیا ہے اس کا نام امور عامہ کے بورڈ پر لکھا جاچکا ہے۔(بعد میں یہ صاحب مقدمہ واپس کر کے معافی مانگ چکے ہیں۔اس وجہ سے نام لکھنے کی ضرورت نہیں۔یہ صاحب جو بولے ہیں ان کی عادت ہے کہ ایسے موقع پر اپنے نفس کو قابو میں نہیں رکھ سکتے۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی تلاشی کا واقعہ سنارہے تھے۔یہ تلاشی پنڈت لیکھرام کے واقعہ قتل کے سلسلہ میں سپرنٹنڈنٹ پولیس گورداسپور نے لی تھی۔آپ نے فرمایا سپر نٹنڈنٹ پولیس ایک چھوٹے دروازہ میں سے گزرنے لگا تو اس کے سر کو سخت چوٹ آئی اور سر چکرا گیا ہم نے اسے دودھ پینے کو کہا لیکن اس نے انکار کیا کہ اس وقت میں تلاشی کے لئے آیا ہوں اور یہ میرے فرض منصبی کے مخالف ہو گا۔اس پر یہی صاحب جو اب بولے ہیں جھٹ بولے۔حضور اس کے سر میں خون بھی نکلا تھا یا نہیں۔حضرت صاحب نے ہنستے ہوئے فرمایا میں نے اس کی ٹوپی اتار کر نہیں دیکھی تھی۔ا خیر تو خطبے میں بولنا منع ہے۔مگر لطیفہ یہ ہے کہ خطبے میں ہی ایک دوسرے صاحب نے انہیں نصیحت کر دی ہے کہ خطبے میں بولنا نہیں چاہئے۔یہ ویسی ہی بات ہے جیسے کہتے ہیں کہ کہیں جماعت ہو رہی تھی۔ایک شخص آیا اور کہنے لگا السّلامُ عَلَيْكُم۔نماز پڑھتے ہوئے ہی ایک شخص کہہ اُٹھا وَعَلَيْكُمُ السّلام دوسرا کہنے لگا تمہیں پتہ نہیں نماز میں بولنا منع ہے پھر تو نے سلام کا جواب کیوں دیا تو خطبے میں بولنا بھی منع ہے اور بول کر منع کرنا بھی منع ہے بعد میں منع کیا جا سکتا ہے یا اشارہ سے سمجھایا جائے۔خطبے میں نہیں بولنا چاہئے ہاں امام خود بول کر منع کر سکتا ہے۔الفضل ۲۶ مارچ ۱۹۳۱ء)