خطبات محمود (جلد 13) — Page 109
خطبات محمود 1۔9 سال ۱۹۳۱ء ہے۔ہمارے امراء بھی دوسرے امراء کے مقابلے میں غریب ہیں۔مجھے حضرت خلیفہ اول کی ایک بات ہمیشہ یاد رہتی ہے۔آپ سے کسی نے کہا آپ کی جماعت میں تو بڑے بڑے امراء ہیں۔آپ نے فرمایا مجھے تو کوئی نظر نہیں آتا۔اور حقیقت بھی یہی ہے کہ ہماری جماعت کے امراء کی دوسری جماعتوں کے امراء کے مقابلہ میں کچھ بھی حقیقت نہیں بلکہ وہ تو ایسوں کو نو کر رکھ سکتے ہیں۔جب ہماری جماعت کی یہ حالت ہے تو آپس میں لڑنا جھگڑنا اور مقدمات کرنا اور ان کو لمبا کرنا کتنی سخت حماقت ہے۔نرمی محبت اور عفو سے کام لینا چاہئے ورنہ پھر نہ نظام سلسلہ کا کوئی فائدہ ہو سکتا ہے نہ ایمان کا کوئی فائدہ حاصل ہو سکتا ہے اور نہ ہی جماعت میں شامل ہونے سے کوئی فائدہ مترتب ہو سکتا ہے۔اگر ہمارے اخلاق اچھے نہ ہوں بلکہ ہم درندے بنے ہوئے ہوں تو ہمیں جماعت میں داخل ہونے سے کیا فائدہ۔پس علاوہ اس کے میں اعلان کرتا ہوں کہ میں نظام سلسلہ کی بغاوت کو قطعا برداشت نہیں کر سکتا میں ہمیشہ عفو سے کام لیا کرتا ہوں۔مگر ایسے موقع پر عفو کرنا سلسلہ ہے دشمنی کرنا ہوتا ہے) نصیحت کرتا ہوں کہ عدالتیں چھوڑ ہمارے مقدمات قضاء میں بھی نہیں آئے چاہئیں۔مومن کاج تو اس کا دل ہوتا ہے پھر ہمارے دل سے بڑھ کر اور کونساج فیسا کر سکتا ہے۔کہتے ہیں ایک بزرگ کو قاضی القضاة بنادیا کیا دوست مبارکباد دیتے آئے تو دیکھا کہ وہ زورت ہیں۔انہوں نے کہا یہ رونے کا کونسا مقام ہو سکتا ہے۔آپ خوش ہوں کہ آپ کو قاضی بنا دیا گیا۔انہوں نے جواب میں کہا اس سے بڑھ کر رونے کا مقام اور کونسا ہو سکتا ہے کہ مدعی کو بھی پتہ ہو گا کہ حقیقت کیا ہے اور مدعا علیہ کو بھی پتہ ہو گا کہ حقیقت کیا ہے وہ دونوں سو جا کھے ہوں گے مگر مجھے کچھ پتہ نہیں ہو گا میں ایک اندھا ہوں گا اور ان کے درمیان فیصلہ کروں گا کیا یہ رونے کا مقام نہیں؟ تو دو سرامج تو کچھ بھی حقیقت نہیں رکھتا۔اگر انسان ایمان کی آنکھ سے دیکھے تو اسے حج کی ضرورت نہیں رہتی۔میں نے یہ واقعہ کسی تاریخ میں تو نہیں دیکھا مگر حضرت مسیح موعود علیہ اسلام سے سنا ہے۔آپ فرماتے تھے ایک صحابی اپنا گھوڑا بیچنے نکلے انہوں نے اس کی قیمت دو سویا تین سو دینار بتائی دوسرے صحابی جو اس گھوڑے کو خریدنا چاہتے تھے کہنے لگے میرے اندازہ میں یہ گھوڑا زیادہ قیمت کا ہے پس میں اس سے زیادہ قیمت دوں گا۔بیچنے والے کہیں کہ اپنے حق سے زائد نہیں لے سکتا میں اتنی ہی لوں گا۔یہ وہ لوگ تھے جو اخلاق کا صحیح نمونہ تھے۔مومن کو کوشش کرنی چاہئے کہ بجائے اس کے کہ دوسرے کا حق مارنے کی کوشش کرے دو سرے کا حق دینے کی کوشش کرے۔بلکہ اگر کوئی ہم سے اپنا حق لینے کا مطالبہ نہ کرے تو ہم اس پر ناراض ہوں۔اگر ہم