خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 106 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 106

خطبات محمود سال ۱۹۳۱ء عورت مشہور ہے جس نے اپنے بھائی کو رونا شروع کیا اور وہ پھر ساری عمر روتی رہی اس کا نام خنساء تھا۔وہ عرب کی مشہور شاعرہ گزری ہے۔اس نے اپنے بھائی کی یاد میں نہایت دردانگیز مرثیے کے ہیں اور وہ ہمیشہ اس کا ذکر کر کے روتی رہی۔حضرت عمر نے بھی ایک دفعہ اس عورت کو بلایا اور اس سے مرضیہ سنا۔حضرت عمر پر بھی اتنا اثر ہوا کہ آپ بھی رونے لگ گئے۔کسی نے پوچھا اپنے بھائی کی یاد اتنی آخر کیوں رکھتی ہو۔کہنے لگی میرا خاوند اچھا امیر آدمی تھا مگر جواری اور شرابی تھا۔اس نے اپنی تمام دولت عیاشی میں گنادی۔جب سب کچھ لٹا چکا اور ہم سخت تنگ ہو گئے تو میں نے اسے کہا آؤ ہم اپنے بھائی کے پاس چلیں اور اس سے کہیں کہ وہ ہماری مدد کرے۔میں اپنے بھائی کے پاس گئی اور اس نے اپنی آدمی دولت تقسیم کر کے مجھے دیدی مگر تھوڑے دنوں کے بعد میرے خاوند نے وہ تمام دولت پھر شراب اور جوئے میں اُڑا دی اور پھر جب ہم تنگدست ہوئے تو میں نے کہا چلو پھر اپنے بھائی کے پاس چلتے ہیں۔میں جو وہاں گئی تو اس نے پھر اپنی آدھی دولت مجھے دیدی مگر میرے خاوند نے پھر دولت گنادی خنساء کہتی ہے میں نے پھر اس سے کہا چلو پھر اپنے بھائی کے پاس چلیں اور جب میں سہ بارہ گئی تو میری بھاوج نے میرے بھائی سے کہا یہ روز مال ضائع کر کے اور دولت لٹا کر آجاتے ہیں انہیں تم کیوں مال دیتے ہو مگر میرے بھائی نے اس کی بات نہ مانی اور پھر اپنی آدھی دولت ہمیں دیدی اور میری بھاوج سے کہا تجھے کیا ہے اگر میں مرگیا تو تو اور خاوند کرلے گی مجھ پر اگر کوئی روئے گی تو یہ میری بہن روئے گی اور کون مجھ پر نوحہ کرے گا۔پس اگر میں ایسے فیاض اور نیک دل بھائی کو یاد نہ کروں تو اور کیسے کروں۔حضرت عمر کے بھائی بھی اسلام کی راہ میں شہید ہو چکے تھے اور آپ کو بھی اپنے بھائی کا سخت صدمہ تھا۔آپ نے خنساء کے مرثیوں کو سن کر کہا کہ مجھے شعر کہنا آتا تو میں بھی اپنے بھائی کا مرضیہ کہتا۔مگر معلوم ہوتا ہے کہ وہ عورت بہت ذہین تھی۔کہنے لگی جو مبارک موت آپ کے بھائی کو نصیب ہوئی اگر اسی طرح میرا بھائی بھی شہید ہو تا تو میں تو کبھی اس کا مرضیہ نہ کہتی۔تو جوش کے وقتوں میں ہی انسانی تعلقات کا اندازہ ہوتا ہے۔یہ میں نے ایک مثال بتائی ہے جو وفاداری کی مثال ہے۔اگر چہ اسلام نے اس قسم کے رونے کو بھی پسند نہیں کیا۔صرف خاوند والی عورت کے لئے ایک مدت رکھ دی ہے اور کہہ دیا ہے اس سے زیادہ سوگ نہیں کرنا چاہئے۔وگر نہ باقیوں کے لئے تو تین دن سے زیادہ سوگ کو بھی پسند نہیں کیا۔اس کے بعد سینہ کے جوش ٹھنڈے ہو جاتے ہیں صرف مصنوعی ذرائع سے انہیں بعد میں تیز کیا جاتا ہے۔تو وہ جوش جو چند دنوں کے بعد خود بخود ٹھنڈے ہونے