خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 105 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 105

خطبات محمود ۱۰۵ سال ۱۹۳۱ء وقت اس بات کا حق رکھتے ہیں کہ جب اسے نظام کا احترام نہیں تو ایسے شخص کی جماعت سے علیحدگی کا اعلان کر دیا جائے لیکن جماعت سے نکالنے کا مفہوم احمدیت سے نکالنا نہیں ہو تا۔احمدیت اعتقاد اور ایمان سے تعلق رکھتی ہے یہ علیحدہ چیز ہے۔ہو سکتا ہے ایک شخص کو ہم جماعت سے نکالیں اور وہ احمدیت پر قائم ہو۔یہ ایک غلطی ہے جو بعض لوگوں کو لگ جاتی ہے۔پہلے بھی میں نے بیان کیا تھا کہ اس قسم کا اخراج احمدیت سے اخراج نہیں ہو تا۔ہم اس قسم کی گفر بازی کا سلسلہ جماعت احمدیہ میں جاری کرنا نہیں چاہتے۔خلفاء تو کیا دراصل انبیاء کو بھی اس قسم کا اختیار نہیں ہو تا بلکہ در حقیقت اسلام سے خدا بھی نہیں نکالتا۔بندہ ہی ہے جو خود اپنے آپ کو اس سے نکال لیتا ہے۔جب ایک بندہ اپنے منہ سے کہتا ہے کہ میں اللہ اور رسول پر ایمان لاتا ہوں تو خدا تعالیٰ بھی یہی کہتا ہے کہ بہت اچھا۔پس جماعت سے اخراج کا جو بھی اعلان ہو وہ احمدیت سے اخراج کا مفہوم نہیں رکھتا۔میں یہ تشریح کر دیتا ہوں تا لوگ دھوکے میں نہ رہیں۔اس کے معنے صرف یہ ہیں کہ جس غرض کے لئے خلافت کو قائم کیا گیا ہے اور جو عظیم الشان مقصد اس کا رکھا گیا ہے کہ لوگ ایک نظام کے ماتحت آئیں چونکہ وہ شخص اس میں اشتراک عمل کے لئے تیار نہیں ہو تا اس لئے وہ ہمارے ساتھ کام نہیں کر سکتا ہم اسے جماعت سے علیحدہ کر دیتے ہیں مگر احمدیت سے نہیں نکالتے۔بلکہ نکال سکتے ہی نہیں۔ہمارا احمدیت سے نکالنے میں کسی قسم کا اختیار نہیں ہے۔میں ساتھ ہی اپنی جماعت کے دوستوں کو یہ نصیحت کرنی چاہتا ہوں کہ وہ اپنے معاملات میں عقل اور تدبیر سے کام لیا کریں۔در حقیقت جوش کے وقت ہی انسان کی عقل اور اس کے ایمان اور اس کے تعلقات کی آزمائش ہوتی ہے۔وہی وقت ہو تا ہے جب پتہ لگتا ہے کہ اس کا تعلق دین سے کس قدر ہے۔ایک عورت کا ذکر ہے کہ رسول کریم میں نے اسے دیکھا کہ وہ اپنے مُردہ دیکھا بچہ پر رو رہی ہے۔آپ نے اسے فرمایا اے عورت صبر کرو۔وہ کہنے لگی جس کے بچے مر جائیں اسے ہی پتہ لگتا ہے کہ بچوں کے مرنے کا کتنا صدمہ ہوتا ہے۔آپ نے تو اسے نصیحت کرنی تھی آگے اس کا اختیار تھا چاہے مانتی یا نہ مانتی۔آپ اتنا فرما کر کہ میرے تو کئی بچے فوت ہو چکے ہیں وہاں سے چل دیئے۔کسی نے اس عورت سے کہا بیوقوف تجھے پتہ بھی ہے یہ کہنے والا کون تھا۔یہ تو مجھ میں لیے تھے۔وہ یہ سنتے ہی بھاگتی ہوئی آئی اور آکر رسول کریم میں اللہ سے کہا یا رسول اللہ ا میں نے صبر کیا۔آپ نے فرمایا صبر تو پہلے موقع پر ہی ہوتا ہے۔رو دھو کر تو سب کو صبر آجاتا ہے کون ہے جو ہمیشہ ہی روتا رہتا ہے رونے والوں کو آخر ایک عرصہ کے بعد صبر آہی جاتا ہے۔صرف ایک