خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 101 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 101

خطبات محمود H سال ۱۹۳۱ء گا مگر رسول کریم ملی کے بھائی مکہ کے رئیس اور اعلیٰ خاندان کے فرد حضرت علی نے یہ کام کیا۔اور اصل اسلامی روح یہی ہے کہ کوئی شخص نکما نہ ہو۔چاہے علمی کام کرے جیسے مدرس مبلغ وغیرہ۔اور چاہے ہاتھ سے کام کرے جیسے لوہار ترکھان جو لاہا وغیرہ پیشے ہیں۔دراصل کوئی پیشہ ذلیل نہیں ہندوستانیوں نے اپنی بیوقوفی سے بعض پیشوں کو ذلیل قرار دے دیا اور پھر خود ذلیل ہو گئے۔انگریز آج کسی وجہ سے ہم پر حکومت کر رہے ہیں۔اگر غور کیا جائے تو فن بافندگی ہی ان کی اس عظمت اور شوکت کا موجب ہے۔مگر ہم یہ کہہ کر کہ جولا ہے کا کام ذلیل ہے خود محکوم اور ذلیل ہو گئے۔پس ہاتھ سے کام کرنا ذلیل فعل نہیں ذلیل کام صرف وہ ہیں جو کمینہ ہیں۔مثلاً کنچنی کا پیشہ یا گانے والی رنڈیاں ایکٹر میراثی یا ڈوم وغیرہ۔باقی اگر کوئی نائی ہے اور محنت کرتا ہے تو وہ ذلیل کیوں ہو گیا۔وہ اس سے زیادہ شریف ہے جو کسی اعلیٰ قوم سے تعلق رکھنے کے باوجود محنت نہیں کرتا اور نکھتا ہے۔اگر کوئی جو لاہا ہے تو وہ دوسروں کے ننگ ڈھانکتا ہے وہ خود کس طرح ذلیل ہو سکتا ہے۔اسی طرح لوہار ترکھان کے پیشے بھی ذلیل نہیں۔یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اگر کوئی ہل کو پکڑ کر جانوروں کے پیچھے لح ملح کرتا پھرے تو معزز ہو لیکن اگر ہتھو ڑا چلائے تو ذلیل ہو جائے یا اگر کوئی دفتر میں کام کرے تو معزز ہو لیکن اگر کپڑا بنے تو ذلیل ہو جائے۔یہ عجیب قسم کی ذلت اور عزت ہے۔جب وہی دماغ۔وہی جسم ہے تو پیشہ اختیار کر لینے سے ذلیل کیوں ہو گیا۔ایک شخص اگر نکما بیٹھا ر ہے لوگوں کا صدقہ کھائے اور مانگتا ر ہے تو وہ معزز ہو لیکن اگر کوئی کھڑی پر کپڑا بنے تو وہ ذلیل ہو جائے۔یہ عجیب قسم کی ذلت اور عزت ہے جسے کوئی بیوقوف ہی سمجھے گا ہماری عقل میں تو یہ آتی نہیں۔پس ہماری جماعت میں احساس ہونا چاہئے کہ محنت کرنا بُرا نہیں اپنے لئے اپنے خاندان کے لئے اپنی قوم کے لئے دین کے لئے اور خدا کے لئے کوئی کام کرنا ذلت کا موجب نہیں بلکہ اس میں عزت ہے۔اس لئے جو لوگ کوئی نہ کوئی کام کر سکتے ہیں وہ ضرور کریں اور ہر حال میں مفید بننے کی کوشش کریں۔میری غرض یہ ہے کہ ہماری جماعت کے تمام افراد دین اور دنیا کے لئے مفید نہیں۔پس تینوں نظار میں اگلے جمعہ تک تمام تفصیلات بہم پہنچائیں۔ناظر اعلیٰ بحیثیت افسران سب کے کام کے لئے جو اب وہ ہوں گے۔اور اسی طرح صد را انجمن ذمہ دار ہوگی کہ یہ نظار تیں اگلے جمعہ تک یہ کام ختم کر دیں۔اور میں تمام جماعت سے امید کرتا ہوں کہ وہ تعاون کرے گی اور نظارتوں کا ہاتھ بٹائے گی۔میں خدا تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ توفیق عطا فرمائے کہ ہمارا وجود اس غرض کو پورا کرنے