خطبات محمود (جلد 13) — Page 100
خطبات محمود سال ۱۹۳۱ء 19۔مثلاً آٹا فروخت کیا کرو ادھر سب سے کہہ دیا جائے کہ پندرہ روز تک آٹا اسی سے خریدیں۔اور کوئی دکاندار آٹا فروخت نہ کرے۔اسی طرح دوسرے دکانداروں کو اگر چہ گاہکوں سے چھٹی مل جائے گی مگر ان کا آٹا پھر بھی فروخت ہو تا رہے گا کیونکہ بیچنے والا انہیں سے لے کر بیچے گا۔اور آٹا اگر انیس سیر کا بکتا ہے تو وہ پندرہ دن تک ساڑھے اٹھارہ سیر بیچے۔اور اس طرح ہر روپیہ ، آدھ سیر کی بچت سے پندرہ روز میں اسے کافی سرمایہ مل جائے گا۔اور یہ عملی قدم اٹھا کر کمزوروں کو بھی آگے بڑھایا جا سکتا ہے اور پھر جو کام نہیں جانتے انہیں کوئی مفید پیشہ سکھایا جاسکتا ہے اور جن کے پاس کوئی کام نہیں ان کے لئے کام کا بندوبست کیا جا سکتا ہے۔پس میں ان نظارتوں کو ہدایت کرتا ہوں کہ اگلے جمعہ تک یہ مردم شماری مکمل کر دیں۔مردم شماری کے دنوں میں گورنمنٹ بھی جبرا اوگوں کو اس کام پر لگا سکتی ہے اور اگر کوئی انکار کرے تو سزا کا مستوجب ہو تا ہے۔پس میں بھی ان ناظروں کو حق دیتا ہوں کہ جسے چاہیں اپنی مدد کے لئے پکڑ لیں۔کسی کو انکار کا حق نہ ہو گا۔اور اگر کوئی انکار کرے تو میرے پاس اس کی رپورٹ کریں لیکن یہ ان کا ضروری فرض ہے کہ ایک ہفتہ کے اندر اندر یہ مکمل کر دیں اور اس کے لئے ہر آدمی سے سوائے اس کے کہ پہلے اسے دوسرا ناظر لے چکا ہو کوئی خواہ کارکن ہو یا غیر کارکن، تاجر ہو یا صنعت پیشہ امداد لیں۔گورنمنٹ سارے ہندوستان میں ایک دن میں مردم شماری مکمل کر دیتی ہے۔اسی طرح یہاں بھی گھروں پر نشان لگا کر چند گھنٹوں میں مردم شماری کرلی جائے۔اور پھر اعلان کر دیا جائے کہ جو شخص تبلیغ کے لئے وقت دینے میں کوئی گذر رکھتا ہو وہ پیش کرے۔میرا منشاء ہے کہ اب جو صرف سلسلہ کی طرف سے مالی امداد دی جاتی ہے۔آئندہ اس کا سلسلہ بند کر دیا جائے اور یہ شرط کر دی جائے کہ جو کوئی جتنی امداد طلب کرے اتنا خود بھی کمائے مثلاً ایک مستحق شخص اگر پانچ روپے طلب کرتا ہے تو ہم اسے کہیں ہم پانچ روپے تو دیتے ہیں مگر شرط یہ ہے کہ اتنی ہی کمائی تم خود بھی کرو۔اس طرح تمہارے پاس دس روپے ہو جائیں گے اور تم خود آرام پاؤ گے۔غرض یہ کہ کوشش کی جائے کہ کوئی شخص نکمانہ ہو اور اپنے لئے اپنے خاندان کے لئے بلکہ دنیا کے لئے مفید ثابت ہو۔صحابہ کرام میں کام کرنا کوئی عیب نہ تھا۔حضرت علی رسول کریم میر کے بھائی تھے۔مکہ کے رؤوسا میں سے تھے اور معزز ترین خاندان کے فرد تھے۔مگر باوجود اس کے جب آپ پہلے پہل مدینہ میں گئے تو دیگر صحابہ کے ساتھ گھاس کاٹ کر بیچا کرتے تھے۔مگر کیا آج کوئی معمولی زمیندار بھی ہے جو ایسا کرنے کے لئے تیار ہو۔وہ بھو کا مرنا پسند کرے