خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 81 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 81

خطبات محمود AL سال ۱۹۲۹ء خدا تعالیٰ کی نظروں میں تہذیب ہے جو اس کی نظر میں نہیں وہ کوئی تہذیب نہیں۔باقی سب رسم و رواج ہیں۔کوئی قوم کسی رواج پر قائم ہے اور کوئی کسی پر۔ہم دیکھتے ہیں مختلف قوموں میں آداب مختلف ہوتے ہیں بعض سجدہ کرتے ہیں بعض جھک کر گھٹنوں کو ہاتھ لگاتے ہیں چنانچہ سلام کی بجائے دوسرے کے گھٹنوں پر ہاتھ لگانا اب بھی مسلمان زمینداروں میں پایا جاتا ہے۔مصر والے جھک کر اپنے گھٹنوں کو ہاتھ لگاتے تھے یعنی جو شریعت نے رکوع کی صورت میں خدا تعالیٰ کے لئے صلى المهر۔مقرر کیا ہے۔پس مسلمانوں کو ہمیشہ اصل مقصد پیش نظر رکھنا چاہئے یعنی یہ کہ دین کی اشاعت اور اسلام کا قیام ہو۔باقی اسلام نہ اچھے کپڑے پہننے سے روکتا ہے نہ اچھے کھانوں سے منع کرتا ہے نہ عمدہ مکانوں میں رہائش سے روکتا ہے صرف یہ کہتا ہے کہ یہ چیزیں اشاعت دین کے رستہ میں روک نہ ہوں اور اس صورت میں ادنیٰ سے ادنی چیز کو بھی نا پسند کرتا ہے۔ایک صحابی کے متعلق لکھا ہے کہ جنگ اُحد میں جب یہ مشہور ہوا کہ رسول کریم اللہ شہید ہو گئے تو وہ کئی دن سے فاقہ سے تھے اتفاقاً کچھ کھجوریں انہیں مل گئیں جو وہ کھا رہے تھے کہ اتنے میں یہ خبر مشہور ہوئی کہ رسول کریم شہید ہو گئے انہوں نے جو نہی یہ خبرسنی کہا یہ بھی کوئی اچھی بات ہے کہ رسول کریم ﷺ شہید ہو گئے اور میں کھجوریں کھاؤں۔چنانچہ انہوں نے فوراً کھجور میں پھینک دیں اور جنگ میں جا کر شہید ہو گئے۔اُس وقت وہ صحابی کھجوریں کھانے کے لئے کھا رہے تھے میوہ کے طور پر نہیں۔اور روٹی کے طور پر کھجوریں کھانا بہت مشکل ہے کسی کو دس دن روٹی کی جگہ کھجور میں کھانے کے لئے دے کر دیکھو اس کی کیا حالت ہوتی ہے لیکن جب ایسی حالت میں کھجوریں کھانا بھی انہوں نے دین کے کام میں روک ہوتے دیکھا تو اسے بھی گناہ سمجھ کر چھوڑ دیا۔تو وہ کام جو دین کے رستہ میں روک ہو وہ خواہ کتنا اعلیٰ اور عمدہ کیوں نہ ہو بُرا ہے اور جو دین کے رستہ میں روک نہیں اس میں خواہ کتنا بھی آرام و آسائش کیوں نہ ہو وہ بُرا نہیں۔پس جو اصل چیز ہے وہ یہی ہے کہ کوئی بھی چیز دین کے رستہ میں روک نہ بنے۔ابھی مؤذن نے اذان دی اور اسی سے میرے دل میں یہ تحریک ہوئی ہے۔اس نے کیسے عمدہ طور پر رسول کریم ﷺ کا پیغام پہنچایا کہ دوڑ کر نماز کی طرف آؤ۔اب دوڑ نا عام طور پر وقار کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔جو با وضع لوگ ہیں وہ نہایت آہستہ آہستہ قدم اٹھاتے ہیں اب آہستہ