خطبات محمود (جلد 12) — Page 64
خطبات محمود ۶۴ سال ۱۹۲۹ء یہ ایسا ہی پست ہمت اور کمینہ خیال ہے جیسا کہ چینیوں کا یہ خیال کہ وہ کاغذ کے پرزوں پر خدا تعالی کی مختلف صفات کے نام لکھ کر انہیں رہٹ کے ساتھ باندھ دیتے ہیں اور سمجھ لیتے ہیں جب تک رہٹ چلتا رہتا ہے ہماری طرف سے عبادت ہوتی رہتی ہے۔جیسے چینیوں کا یہ خیال گرا ہوا اور ادنی ہے ایسے ہی مسلمانوں کا یہ خیال ہے۔لیکن باوجود اس کے کہ مسلمان ایسے ذلیل طور پر اس دن کا استعمال کرتے ہیں اس کی عظمت و شان اور اس کے وقار میں کمی نہیں اس لئے کہ یہ رمضان کا آخری جمعہ ہے اور وہ آخری دن ہے جس دن کے اندر رمضان کے علاوہ بھی ایک ساعت ایسی آتی ہے جب خدا تعالیٰ خصوصیت سے دعائیں سنتا ہے۔پھر یہ اُس مہینہ کا آخری جمعہ ہے جس کے تمہیں دن ہی بابرکت اور دعاؤں کی قبولیت کے دن ہوتے ہیں۔یہ اس مہینہ کا آخری جمعہ ہے جس میں خدا تعالیٰ کی طرف سے خاص برکات اور فضل نازل ہوتے ہیں جس میں عبادت کرنے کا بدلہ خود خدا تعالیٰ کی اپنی ذات ہوتی ہے۔یہ اُس مہینہ کا آخری جمعہ ہے جس میں سُست اور غافل لوگوں کو بھی خدا تعالیٰ کی عبادت کی توفیق مل جاتی ہے لیکن با ہیں ہمہ یہ پچھلی نمازوں کا قائمقام کسی صورت میں بھی نہیں ہو سکتا۔اگر چہ اس میں شک نہیں یہ خدا تعالیٰ کے قرب کا موجب ہو سکتا ہے۔رمضان کے آخری عشرہ کو رسول کریم ﷺ نے خاص طور پر مبارک فرمایا ہے اور فرمایا ہے اس میں ایک ایسی رات آتی ہے جس میں خدا تعالیٰ کے خاص فضل نازل ہوتے ہیں۔ہے اگر چہ اس کے پہلے آنے والے دن بھی اپنے اندر ایسی ساعتیں رکھتے ہیں کہ اگر انسان ان سے فائدہ اُٹھانا چاہئے تو خدا تعالیٰ کے حضور گر کر اپنی ذلتوں اور نکبتوں کو دور کر کے اس کا مقرب بن سکتا ہے لیکن یہ دن اور اس کے بعد آنے والے دن رات خاص طور پر مبارک ہیں۔پس میں جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ ان دنوں سے خاص طور پر فائدہ اٹھایا جائے۔اور خاص طور پر دعائیں کی جائیں۔جو نہ صرف اپنی ذات کے لئے ہی ہوں بلکہ سلسلہ کی عظمت اور اسلام کی ترقی کے لئے بھی ہوں۔یا درکھنا چاہئے شریف انسان ہمیشہ اپنے عہد کا پابند ہوتا ہے بلکہ عہد کی پابندی ایسی شرافت ہے کہ گناہگاروں میں بھی اسے شرافت سمجھا جاتا ہے۔حضرت خلیفہ امسیح الاوّل فرمایا کرتے تھے میں نے ایک چور سے پوچھا چوری کا کیا طریق ہے؟ اس نے بتایا' عمدگی سے چوری کرنے کیلئے