خطبات محمود (جلد 12) — Page 62
خطبات محمود ۶۲ سال ۱۹۲۹ء ہوتے ہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کی راہ میں مرنے کو تیار ہے۔مگر چونکہ خدا تعالیٰ نے حرام موت مرنے سے روکا ہے اس لئے وہ افطار کرتا ہے اس لئے روزہ کا بدلہ خدا تعالیٰ ہے کیونکہ خدا تعالیٰ موت کے بعد ہی ملتا ہے۔آگے زندگی کی دو صورتیں ہوتی ہے۔ایک تو یہ کہ خود زندہ رہنا اور دوسرے اپنے بعد نسل چھوڑ جانا۔اور روزہ میں انسان پر موت کی یہ دونوں صورتیں وارد ہوتی ہیں۔یعنی وہ کھانا پینا ترک کر کے اپنی موت پر آمادگی کا اظہار کرتا ہے اور بیوی سے تعلقات قطع کر کے اس بات پر آمادگی کا اظہار کرتا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے لئے اپنی نسل کو بھی بر باد کر دینے کے لئے تیار ہے اور روزہ میں موت کی ان دونوں اقسام کے نمونے وہ پیش کرتا ہے اور اس طرح خدا کی ملاقات کا مستحق ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے لقاء کا بہترین ذریعہ یہ ہوتا ہے کہ اس کا کلام نازل ہو۔قرآن کریم اگر چه رسول کریم ﷺ پر نازل ہو چکا ہے لیکن جب انسان اس کی تلاوت کرتا ہے تو اس پر بھی ایک نیم وحی کی حالت ہوتی ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا یہ اس کے لئے ہی نازل ہو رہا ہے۔پس رمضان شریف میں تلاوت قرآن کریم مسنون ہے۔باقی تراویح تو حضرت عمر نے مقرر کی ہیں۔آپ نے قاری مقرر کر دیئے کہ قرآن سنایا کریں تا نماز کی نماز تلاوت کی تلاوت اور عبادت کی عبادت ہو جائے۔یہ کوئی شرعی چیز نہیں شرعی چیز تہجد ہے مگر وہ بھی ضروری نہیں۔لیکن ایسا احمق بھی کون ہو گا جو نیند چھوڑ کر اُٹھے بھی اسے موقع بھی ملے لیکن وہ اس سے فائدہ نہ اٹھائے اور یونہی بیٹھا باتیں کرتا یا حقہ پیار ہے۔پس تراویح کی یہی حقیقت ہے کہ چونکہ تلاوت قرآن کریم رمضان سے خاص تعلق رکھتی ہے اس لئے حضرت عمر نے ایسا انتظام کر دیا کہ ایک شخص قرآن کریم سُنا دیا کرے تا مسلمانوں میں قرآن سے زیادہ وابستگی پیدا ہو اور روزہ کا جو فائدہ ہے کہ خدا تعالیٰ کا لقاء حاصل ہو وہ اس ( الفضل ۸ - مارچ ۱۹۲۹ء ) طرح حاصل ہو سکے۔البقره: ۱۸۴ بخاری کتاب الصوم باب هل يقول اني صائم اذاشتم بخارى كتاب الصوم باب اجودما كان النبي يكون في رمضان بخاری کتاب الصوم باب فضل من قام رمضان ه بخاری کتاب الصوم باب اجودما كان النبي يكون في رمضان