خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 51 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 51

خطبات محمود ۵۱ سال ۹ مرید تھیں۔ایک دفعہ وہ آپ کے ہاں آئیں تو آپ نے دریافت کیا پیر صاحب کی بیعت سے تمہیں کیا فائدہ پہنچا۔کوئی دین کی خدمت کی توفیق ملی یا انہوں نے تمہارے اخلاق کی اصلاح کی۔انہوں نے کہا فائدہ تو کچھ نہیں ہوا۔آپ نے فرمایا اب جاؤ تو پیر صاحب سے پوچھنا کہ ان کی بیعت کا کیا فائدہ ہے ؟ وہ جب پیر صاحب کے پاس گئیں اور یہ سوال کیا تو پیر صاحب نے کہا معلوم ہوتا ہے تم نورالدین کے پاس قادیان گئی ہو اور اس نے یہ سوال سکھایا ہے۔انہوں نے کہا خواہ کسی نے سکھایا آپ بتائیں کہ آپ کی بیعت کا فائدہ کیا ہے پیر صاحب نے کہا فائدہ یہ ہے کہ ہم نے تمہارے سارے گناہ اُٹھالئے ہیں اب قیامت کے دن خدا تمہیں نہیں پوچھ سکتا کہ تم نے فلاں نیک کام کیوں نہ کیا یا فلاں گناہ کیوں کیا ؟ تم بے شک نماز روزہ حج زکوۃ چھوڑ دو جب قیامت کو خدا پوچھے تو صاف کہہ دینا سب گناہوں کا ذمہ پیر صاحب نے لے لیا ہے پھر تم گڑ رگڑ کرتی بہشت میں چلی جاؤ گی۔انہوں نے کہا پھر آپ کا کیا حال ہوگا ؟ پیر صاحب نے کہا ہم سے خدا کچھ پوچھے تو سہی ہم کہیں گے امام حسین کی قربانی کیا تھوڑی ہے کہ ہمیں یہ کہہ کر دق کیا جاتا ہے۔یہ کیوں نہ کیا اور وہ کیوں کیا۔یہ پیر صاحب کا نبی کی اولاد ہونے کا ناجائز استعمال ہے یا نہیں۔رسول کریم ہے تو لوگوں میں خشیت پیدا کرنے کے لئے آئے تھے۔لیکن ان کا بھی غلط استعمال کر لیا گیا کہ کہہ دیا ان کی اولا د ساری دنیا کے گناہ اُٹھا سکتی ہے۔اب دنیا خواہ کتنے گناہ کرے پیر صاحب اس کے ذمہ دار ہیں۔تو یہ نبی کا غلط استعمال ہے۔اسی طرح قیامت کا بھی غلط استعمال کیا جاتا ہے اور وہ اس طرح کہ کہا جاتا ہے کہ اگر فلاں کام نہ کرو گے ( جو دراصل ناجائز ہوتا ہے ) تو قیامت کو پوچھے جاؤ گے۔قیامت کے مواخذہ سے ڈر کر انسان ایک ناجائز فعل کا مرتکب ہو جاتا ہے۔غرضیکہ بہتر سے بہتر چیز کا بھی دنیا میں غلط استعمال کر لیا جاتا ہے لیکن اس کے یہ معنی ہرگز نہیں کہ اس چیز کا وجود ہی غیر مفید ہے۔جیسے اگر کوئی شخص کسی کو جو تا تحفہ کے طور پر دے اور وہ اسے سر پر رکھ کر چل پڑے تو یہ اس کا اپنا قصور ہو گا یہ جوتا کا غلط استعمال ہو گا۔غرض اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو چیزیں عطا ہوئی ہیں وہ سب اچھی ہیں نقص ان کے غلط استعمال سے پیدا ہوتا ہے۔دیکھو عبادت کیسی اچھی چیز ہے لیکن قرآن کریم میں آتا ہے فَوَيْلٌ لِلْمُصَلَّيْنَ الَّذِينَ هُمْ عَنْ 0 صَلاتِهِمْ سَاهُونَ الَّذِينَ هُمْ يُرَاءُونَ وَيَمْنَعُونَ الْمَاعُونَ ٥ نماز فرض تو ہوئی !