خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 459 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 459

خطبات محمود ۴۵۹ سال ۱۹۳۰ء حضرت مسیح موعود کی طرف آپ کی تعلیم کے خلاف کوئی بات منسوب نہ کی جائے فرموده ۴۔جولائی ۱۹۳۰ء بمقام شملہ ) تشہد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: دنیا میں مختلف قسم کے اختلافات پائے جاتے ہیں اور مختلف قسم کے خیالات جن پر لوگ قائم رہتے یا قائم ہوتے ہیں۔جس کا باعث جہاں جہالت یاضر یا اسی قسم کی اور باتیں ہوتی ہیں وہاں ایک بڑی وجہ اس کی یہ بھی ہوتی ہے کہ بہت سے کلام ذوالمعانی ہوتے ہیں جن کے معنی ہر شخص اپنے رنگ اور اپنے خیالات کے مطابق کرتا ہے اور اس طرح اختلاف پیدا ہوتا چلا جاتا ہے۔بسا اوقات ایک شخص دیانتداری سے ایک معنی کرتا ہے اور اس میں تعصب سے کام نہیں لیتا لیکن باوجود اس کے کہ وہ دیانتداری سے معنے کرتا ہے چونکہ وہ اپنے دلی میلانات اور اپنے خیالات کی وجہ سے ان معنوں کو اختیار کرتا ہے اس وجہ سے وہ معنی قابل قبول نہیں ہوتے۔قرآن کریم کے پڑھنے والے بہت سے ایسے ہندو عیسائی اور زرتشتی پائے جاتے ہیں۔جن کے دلوں میں تعصب نہیں ہوتا اور وہ اس کے پڑھتے وقت یہ خیال رکھتے ہیں کہ ان پر ان کے خیالات کا اثر نہ پڑے لیکن پھر بھی وہ بعض جگہ غلط معنی کر جاتے ہیں کیونکہ ان پر ان کے اپنے خیالات کا اثر غالب ہوتا ہے۔اس کی ایک مثال سیل (SALE) کا انگریزی ترجمہ قرآن کریم ہے جو اس نے میرے خیال میں بغیر تعصب کے لکھا ہے لیکن اس نے کئی باتیں اپنے عیسائی نقطہ نگاہ کے مطابق صحیح سمجھ کر