خطبات محمود (جلد 12) — Page 416
خطبات محمود سال ۱۹۳۰ء بہتا انہوں نے دیکھا۔ایک شخص نے خیال کیا کہ لوئی ہے کیونکہ اس کے بال پانی میں سردی کی وجہ سے سمٹ کر لوئی کی طرح تہہ بہ تہ ہو گئے تھے۔وہ شخص پانی میں گودا اور اسے پکڑ کر اپنی طرف کھینچنے کی کوشش کی۔اس کی کھینچا تانی کی وجہ سے گرمی پیدا ہونے کے سبب ریچھ کے بدن میں بھی توانائی آگئی اور اس نے اس شخص کو اپنے قابو میں کرنے کے لئے زور لگانا شروع کیا۔جب زیادہ وقت گزر گیا تو اس کے ساتھی نے اسے آواز دی اگر کمبل کھینچا نہیں جا سکتا تو اسے چھوڑ کر آ جاؤ۔اُس نے جواب دیا اب میرے چھوڑ دینے کا تو سوال ہی نہیں میں تو کمبل کو چھوڑتا ہوں لیکن کمبل مجھے نہیں چھوڑتا۔تو کئی مواقع انسان پر ایسے آتے ہیں کہ وہ چاہتا ہے خاموش بیٹھا رہے لیکن لوگ اسے نہیں بیٹھنے دیتے۔اگر دنیا ہمیں خاموشی سے اپنے کام میں مشغول رہنے دے تو ہم بھی اپنے کام میں مشغول رہیں اور کسی دوسری بات کی طرف خیال بھی نہ کریں لیکن دنیا کبھی اس بات کی اجازت نہیں دے سکتی۔اگر ہم خاموش رہیں تو کہا جاتا ہے بولتے کیوں نہیں اور اگر بولیں تو کہا جاتا ہے ہمارے خلاف رائے کیوں رکھتے ہو۔سوچتے نہیں کہ انہیں کس نے کہا تھا کہ مجبور کر کے ہم سے رائے لیں۔ہم بالکل خاموش تھے لیکن اعتراض کیا جاتا تھا کہ یہ ملکی معاملات میں دلچسپی نہیں لیتے لیکن جب بولیں تو یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ ہمارے خلاف رائے کیوں رکھتے ہو۔حالانکہ جب ہم سے دریافت کیا جاتا ہے تو ہمارا فرض ہے کہ دیانتداری سے اپنی رائے کا اظہار کر دیں خواہ وہ غلط ہو یا صحیح۔پس اگر ہم بولیں گے تو ضرور ہے کہ وہی کہیں جو ہمارے نزدیک صحیح اور درست ہے۔اور چونکہ اب زمانہ ایسا ہے کہ لوگ دوسرے کو خاموش نہیں رہنے دیتے اس لئے ہم مجبور ہیں کہ اپنے خیالات ظاہر کر دیں۔علاوہ ازیں ہماری جماعت خدا تعالیٰ کے فضل سے دن بدن بڑھ رہی ہے اور ہر طبقہ کے لوگ اس میں داخل ہو رہے ہیں۔اس میں صرف سرکاری ملازم ہی نہیں بلکہ زمیندار اور آزاد پیشہ تاجر بھی ہیں اور وہ اپنے ارد گرد کے سیاسی خیالات سے ضرور کچھ نہ کچھ متاثر ہوتے ہیں اس لئے بھی ہمارا فرض ہے کہ اپنی جماعت کی راہنمائی کے لئے اپنے خیالات کا اظہار کر دیں اس لئے کچھ عرصہ سے ہم پیش آمدہ اہم امور کے متعلق صحیح مسلک کا اعلان کر دیتے ہیں تا اپنی جماعت کی راہنمائی ہو سکے اور وہ دق کرنے والوں کو صحیح جواب دے سکے۔اس کے علاوہ یہ بات بھی ہے کہ ہمارا مذہب ہمیں سکھاتا ہے کہ تم جس بات کو صحیح سمجھو اسے دوسروں تک بھی پھیلا ؤ۔ہم