خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 407 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 407

خطبات محمود سال ۱۹۳۰ء تمہارا بھی وہی حال ہوتا جو ان لوگوں کا ہو رہا ہے جو اس کشتی میں سوار نہیں جسے اس زمانہ کے نوح نے تیار کیا۔لیکن ان لوگوں کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ ارشاد بھی تمہارے لئے موجود ہے۔اے دل تو نیز خاطر ایناں نگاه دار کآخر کنند دعوى پیمبرم چونکہ کچھ مصائب آنے والے تھے اس لئے فرمایا ایسی آفتیں اور تباہیاں آنے والی ہیں اُس وقت ان لوگوں کا خیال رکھنا کیونکہ خواہ کچھ ہو یہ لوگ بھی محمد رسول اللہ اللہ کی امت میں سے ہیں۔پس ہمارا فرض ہے کہ حضور علیہ السلام کی امت کو بچانے کے لئے ہر ممکن کوشش کریں اور انہیں سیاسی آندھیوں سے بھی بچائیں اس کے لئے ہمیں خود کوشش کرنی چاہئے اور اگر خود نہ کر سکیں تو دوسروں کو اس کے لئے دعوت دینی چاہئے کیونکہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے بعض دفعہ اللہ تعالیٰ اپنی وحی دوسروں پر بھی نازل کر دیتا ہے اور ان سے بھی اسلام کی خدمت لے لیتا ہے۔ابو طالب نے رسول کریم ﷺ کی کس قدر امداد کی اور اسلام کو آپ سے کس قدر تقویت پہنچی اگر چہ وہ خود تو ایمان نہ لائے مگر یہ وہی خدمات تھیں جنہوں نے حضرت علی جیسا انسان پیدا کر دیا وگرنہ آپ کے اور چچا بھی تھے ان کی اولا دکو ایسا مقام کیوں نہ حاصل ہوا۔اس طرح ان کو بھی فائدہ پہنچ گیا اور اسلام کو بھی۔اس لئے جہاں احمد کی خود نہ کوئی کام کر سکیں وہاں دوسروں کو دعوت دیں تا ان کی سیاسی اور مذہبی حالت رُو بہ اصلاح ہو سکے۔احمدیوں کے سوا اور کون جتھہ مسلمانوں کا ہے؟ باقیوں کی تو یہ حالت ہے کہ ایک مولوی فتویٰ دیتا ہے تو منہ اُٹھا کر سب اُس طرف بھاگ پڑتے ہیں پھر کوئی اور فتوی دیتا ہے تو اُس طرف دوڑ پڑتے ہیں۔جس طرح کوئی شیش محل کے اندر داخل ہو جائے اور یہ نہ سمجھ سکے کہ کس طرف جانا ہے بعینہ وہی حالت اس وقت مسلمانوں کی ہے۔صرف ہماری ہی ایک جماعت ایسی ہے جو بغیر کسی خطرہ کے سیدھے راستہ پر جا رہی ہے۔مسلمانوں کی نجات اسی میں ہے کہ انہیں احمدیت کی تبلیغ کی جائے مگر افسوس اس طرف بہت کم توجہ کی جاتی ہے۔اگر ہم میں سے ہر شخص دیوانہ وار تبلیغ میں لگ جائے تو بہت جلد دنیا میں تغیر پیدا کیا جا سکتا ہے۔جلسہ سالانہ کے موقع پر میرے لیکچر سے متاثر ہو کر دوستوں نے اس طرف توجہ کی تھی اور دو تین ماہ تک بیعت کرنے