خطبات محمود (جلد 12) — Page 406
خطبات محمود سال ۱۹۳۰ء کر سکتے۔خود رسول کریم ﷺ اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی ایسا نہیں کیا۔دلوں کا فتح کرنا اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے کامیابی اور فتح اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتی ہے اور آئے گی۔پھر یہ تو خیال بھی نہیں کیا جا سکتا کہ زیادہ آدمی ہونے سے یہ کام فورا ہو جائے گا۔آدمی تھوڑے ہوں یا بہت کام تو آخر اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہی ہونا ہے۔اگر آدمی تھوڑے ہوں تو پھر ان کے لئے اور بھی مزا ہے کہ انہیں ثواب حاصل کرنے کا زیادہ موقع مل سکے گا۔اسلام نے حکم دیا ہے کہ تم بخیل مت بنو اس لئے ہماری تو یہی خواہش ہے کہ ساری دنیا اس کام میں شریک ہو کر اجر کی مستحق ہو و گر نہ اگر بخل ممنوع نہ ہوتا تو پھر ہم یہی خواہش کرتے کہ اور لوگ یہ کام نہ کریں صرف ہم ہی کریں۔گجا یہ کہ کہیں چونکہ دوسرے لوگ نہیں کرتے اس لئے ہم بھی نہیں کرتے۔ہم تو اسلام کے حکم کی وجہ سے دوسروں کو شریک کرنے کی کوشش کرتے ہیں وگرنہ کون ہے جو خود زیادہ ثواب اور اجر لینے کا خواہش مند نہ ہو۔چھٹی اور سزا کے متعلق یہ بات ہوتی ہے کہ دوسروں کو اس میں شریک کرنے کی کوشش کی جاتی ہے انعام حاصل کرنے سے متعلق کوئی عقلمند یہ نہیں کہتا کہ دوسروں کو چونکہ نہیں ملا اس لئے میں بھی نہیں لیتا۔اور اسلام کی اشاعت کے متعلق جو ایسے خیالات ظاہر کرتا ہے وہ یقینا اسلامی احکام کی تعمیل کو ایک پٹی یقین کرنا ہے۔پس میں دوستوں کو تاکید کرتا ہوں کہ ان میں سے ہر ایک یہی خیال کرے کہ یہ کام اسی نے کرنا ہے۔کبھی بھول کر بھی تمہاری زبان پر یہ کلمہ نہ آئے کہ چونکہ فلاں نہیں کرتا اس لئے ہم بھی نہیں کرتے۔اگر کوئی دوسرا اس کام کو چھوڑتا ہے تو تم خوش ہو اور سمجھو کہ ہم نے تو اسے ثواب میں شامل کرنا چاہا تھا لیکن اگر وہ شامل نہیں ہوتا تو ہم کیوں زیادہ سے زیادہ ثواب نہ حاصل کریں۔پھر ساتھ ہی دعائیں بھی کرتے رہو یہ خدا تعالیٰ ہی کا کام ہے اس لئے اسی کے آگے جھک جاؤ کہ وہ مدد کرے۔یہ دن اسلام پر سخت مصائب کے دن ہیں۔ہندوؤں نے مسلمانوں کو نابود کر دینے کا تہیہ کر رکھا ہے۔مذہبی حملوں کے علاوہ سیاسی حملے بھی سخت سے سخت کئے جا رہے ہیں۔مخالفت کی خوفناک آندھیاں چل رہی ہیں مگر مسلمانوں کی آنکھیں مٹی اور خاک سے اس قدر بھر گئی ہیں کہ وہ کچھ بھی نہیں دیکھ سکتے۔وہ بار بار جس راستہ سے ٹھوکریں کھاتے ہیں پھر اسی کی طرف دوڑتے ہیں۔تم پر خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے اپنا ماً مور بھیج کر تمہیں اس مصیبت سے بچالیا وگرنہ آج