خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 400 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 400

خطبات محمود ۵۱ سال ۱۹۳۰ء حفاظت واشاعتِ اسلام کیلئے پوری کوشش کرو تحتية (فرمود ه ۱۶ مئی ۱۹۳۰ ء ) تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: اس وقت جو اسلام کی حالت ہے اور جس کسمپرسی میں وہ دین مبتلاء ہے جو دنیا کی اصلاح کرنے اور لوگوں کو ترقی دینے کے لئے آیا تھا وہ ہر ایک ایسے شخص پر جو کچھ بھی اسلام سے محبت اپنے دل میں رکھتا ہے ظاہر ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ زمانہ عام طور پر مذہب کے خلاف اثرات سے پُر ہے اور ان خطرناک روؤں سے جو مذہب کے خلاف اس وقت چل رہی ہیں نہ عیسائیت محفوظ ہے نہ ہندو ازم محفوظ ہے نہ سکھ ازم محفوظ ہے نہ یہودیت محفوظ ہے اور نہ اسلام محفوظ ہے۔لیکن ان حملوں میں جو دیگر مذاہب پر ہوتے ہیں اور ان میں جو اسلام پر ہوتے ہیں میں بہت بڑا فرق ہے۔اور وہ فرق اس قدر نمایاں ہے کہ ہر شخص اسے بآسانی سمجھ سکتا ہے۔اسلام کے سوا روئے زمین پر کوئی اور مذہب نہیں جس کے ماننے والوں کے پاس ان کی الہامی کتاب اپنے اصلی الفاظ میں محفوظ ہو۔اور نہ ہی کسی مذہب کا ایسا دعویٰ ہے صرف اسلام ہی اس بات کا مدعی ہے کہ اس کی الہامی کتاب اپنے اصلی الفاظ میں موجود ہے اور ہمیشہ ہی محفوظ رہے گی۔لیکن جہاں ایک طرف یہ امر ہمارے لئے فخر و مباہات کا موجب ہے اور اس قابل ہے کہ دشمنوں کی مجالس میں فخر سے ہم اپنے سر کو بلند کریں کہ ہمارا مذہب ہر قسم کی دست برد سے محفوظ ہے وہاں یہ ہمارے لئے ایک خطرناک صورت بھی پیدا کر دیتا ہے۔عیسائیت پر اگر کوئی حملہ ہوتا ہے تو وہ اپنی کتاب کے غیر محفوظ ہونے کی آڑ میں پناہ لے لیتی ہے۔ایک پادری نہایت دیدہ لیری