خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 399 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 399

خطبات محمود ۳۹۹ سال ۱۹۳۰ء کہ وہ اپنے فضل سے اس فضاء کو ٹھیک کر دے تا ایسی جماعتیں موجود ر ہیں جو ہماری باتوں کوسن سکیں۔موجودہ فضاء گورنمنٹ کے لئے ہی نہیں ہمارے لئے بھی مضر ہے۔ہم بے شک تعداد کے لحاظ سے کم ہیں لیکن کیا تمہیں معلوم نہیں کہ بعض بہت ہی کم مقدار میں دوائیں بڑی بڑی خوفناک بیماریاں دور کر دیتی ہیں۔پس اگر تبشیری پہلو کو لیا جائے تو ہمارے تھوڑا ہونے کی مثال تھوڑی دوا کی ہے اور اگر اندازی پہلو کو لیا جائے تو نہایت تھوڑ از ہر قوموں کو کولیا ہلاک کر دیتا ہے۔پس انداری اور تبشیر کی دونوں پہلوؤں کے لحاظ سے ہم بہت ہیں مگر ضرورت یہ ہے کہ خدا کے بن جائیں جو قوم خدا کی ہو جاتی ہے وہ ساری دنیا پر چھا جاتی ہے۔دنیا جسے بیج کی حالت میں چھوٹا سمجھ کر اس سے بھاگنے کی کوشش کرتی ہے آخر کار خود بخودہی اس کے سایہ میں آ کر آرام لیتی ہے یہ دعاؤں کے دن ہیں خصوصاً آج (حج) کا دن وہ دن ہے جو اتحاد بین المسلمین کو مضبوط کرنے کا باعث ہے۔آج تمام دنیا کے مسلمان، نسلی، قومی، حکومتی اور مذہبی اختلاف فراموش کر کے اور اپنے ہاتھ پھیلائے ہوئے خدا تعالیٰ کے گھر میں اپنے عجز و نیاز کو اس کے حضور پیش کرنے کے لئے جمع ہیں اور یہ وہ دن ہے جب خدا تعالیٰ کی رحمت جوش میں ہے۔پس اس سے فائدہ اُٹھاؤ اور خوب دعائیں کرو کہ اے خدا! تو نے اپنے دین کی اشاعت کے لئے ہمیں قائم کیا ہے دنیا ہمیں ذلیل سمجھتی اور ہمارے مقابلہ کے لئے آمادہ ہے تو اپنی وحدت کا جلوہ دکھا اور سب کو ہمارے ہاتھ پر ایک کر دے۔تمام اختلافات اور تفرقے مٹ جائیں اور ساری دنيا لا شریک لک لبیک کہتے ہوئے تیرے دربار میں حاضر ہو جائے۔تیرے مامور کو مان لے۔اور دنیا میں پھر وہی جنت قائم ہو جائے اور آدم ثانی اس میں داخل ہو جائے جس سے پہلا آدم نکالا گیا تھا۔الفضل ۱۴ مئی ۱۹۳۰ء ) البقرة: ٤١ بنی اسرائیل: ۹۴ الفاتحة : ٦ ا تذکرہ صفحہ ۳۹۷۔ایڈیشن چہارم البقرة: ۲۵۰ 1 حضرت سعد بن ربیع اسد الغابة في معرفة الصحابة جلد ۲ صفحہ ۷ ۲۷ مطبوعہ بیروت ۱۳۷۷ھ