خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 342 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 342

خطبات محمود کرے۔ہم اپنے آئین کی پابندی کریں گے۔کسی شاعر نے کہا ہے۔سال ۱۹۳۰ء وہ اپنی خو نہ چھوڑیں گے ہم اپنی وضع کیوں بدلیں پس اگر وہ اپنے قانون کو نہیں بدلتی تو ہم اپنی وضع کیوں چھوڑیں۔حکومت نے تو انصاف حاصل کرنے کا یہ طریق رکھا ہے کہ انسان لٹھ لیکر کھڑا ہو جائے پھر وہ بھی دخل دے دیتی ہے لیکن اگر کوئی برداشت کر لے تو پھر یہی کہا جاتا ہے کہ تم چونکہ خاموش ہو گئے اس لئے تمہارا کوئی حق نہیں۔مگر خیر وہ اپنے اسی قانون کی بے شک پابند ر ہے ہم اپنے مسلک کو نہیں چھوڑ سکتے۔ہمیں کوشش کرنی چاہیئے کہ ہم اس بات کے اہل ثابت ہوں کہ خدا تعالیٰ کا فضل ہمارے شامل حال ہو سکے پھر وہ خود بدلہ لے گا۔اگر آپ لوگ منافقوں سے تعاون نہ کریں تو ان کو کبھی بھی جرات نہیں ہو سکتی لیکن مجھے معلوم ہے کہ یہاں بعض بڑی عمر کے لوگوں میں سے بھی، چھوٹوں میں سے بھی عورتوں میں سے بھی اور طالب علموں میں سے بھی ایسے وجود ہیں جو ان سے جا کر ملتے ہیں اور ان کی پیٹھ ٹھونکتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں کہ سارا قادیان تمہارے ساتھ ہے اور وہ سمجھ لیتے ہیں کہ کسی کو جوش نہیں آئے گا۔اس میں شبہ نہیں کہ یہاں منافق ہیں مجھے رویا میں ان کی شکلیں بھی دکھائی گئی ہیں۔مگر رویا کی بناء پر نہیں بلکہ ان اطلاعات کی بناء پر جو مجھے پہنچتی رہتی ہیں میں بہت جلد ایک تحقیقاتی کمیشن مقرر کروں گا۔ہم ان کو کچھ کہیں گے نہیں لیکن اعلان کر دیا جائے گا کہ ان لوگوں کا جماعت سے تعلق نہیں تا ان کے کاموں کو جماعت کی طرف نہ منسوب کیا جا سکے۔اللہ تعالیٰ خَبِير و بصیر آسمان پر موجود ہے اور وہ خوب جانتا ہے کہ میں نے آج تک ان کیلئے بد دعا نہیں کی اور میں یقین رکھتا ہوں کہ آئندہ بھی ایسا نہیں کروں گا اب بھی میں ان کیلئے بددعا نہیں کرتا بلکہ یہی دعا کرتا ہوں کہ اگر ان کے دل کے کسی گوشہ میں ایمان موجود ہے تو اللہ تعالی ان کو ہدایت دے دے اور اگر کسی گوشہ میں بھی ایمان نہیں تو پھر بھی وہ جو سلوک چاہے ان سے کرے۔میں یہ باتیں دکھاوے کیلئے نہیں کہتا۔انسان لوگوں کے سامنے دکھاوا کر سکتا ہے مگر خدا گواہ ہے کہ رات کی تنہائیوں میں بھی جب میرا کوئی عزیز سے عزیز بھی سننے والا نہیں ہوتا میں نے ان کیلئے دعائیں ہی کی ہیں اور اب بھی یہی کہتا ہوں کہ میرا یہ حق نہیں کہ کہوں : خدایا ان کو سزا دے بلکہ یہی کہتا ہوں کہ جو تیری مرضی ہو وہی کر کیونکہ تیری مرضی ہی اعلیٰ اور برکت کا موجب ہے۔(الفضل یکم اپریل ۱۹۳۰ء )