خطبات محمود (جلد 12) — Page 338
خطبات محمود ٣٣٨ سال ۱۹۳۰ء جس طرح آپ کی زندگی میں تھا۔میرے خلاف باتیں بناتے بناتے جب ان لوگوں نے دیکھا کہ یہ برداشت کئے جاتا ہے اور ہماری غرض پوری نہیں ہوتی تو اب اسی قسم کی شرارتوں کا ارتکاب شروع کر دیا ہے جو رسول کریم ﷺ کے دشمنوں نے انجام کار اختیار کی تھیں۔تازہ پر چہ میں میری بیویوں کے متعلق یہ شائع کیا گیا ہے کہ انہوں نے کسی دکان سے دو تھان چرائے اور پھر پکڑے جانے پر اپنی عزت کو کئی گھنٹوں کے لئے اُس دُکاندار کے حوالے کر دیا۔اسی طرح قادیان میں چند سال ہوئے ڈھاب میں سے ایک ضائع شدہ بچہ کی لاش ملی تھی اُس کے متعلق انہوں نے لکھا ہے کہ وہ میری لڑکی کا حمل تھا جو ہم نے اُس جگہ ڈلوا دیا تھا۔اللہ تعالیٰ ان باتوں سے اچھی طرح واقف اور آگاہ ہے اور اُس کا فضل اپنے وقت پر ظاہر ہو کر بتا دے گا کہ یہ شرارتیں اور خباشتیں اُس کی نظر میں کیا وقعت رکھتی ہیں۔اس فتنہ کے شروع ہونے سے پہلے میں نے ان لوگوں کو بلا کر کہا تھا کہ تم یہ سب شرارتیں محض اس وجہ سے کر رہے ہو کہ تمہیں معلوم ہے کہ میں بدلہ نہیں لوں گا وگر نہ احمدیت کے علاوہ بھی میں ایسے خاندان سے تعلق رکھتا ہوں جو کبھی کسی بڑے سے بڑے بادشاہ سے بھی نہیں ڈرا۔اگر احمدیت میرے راستہ میں حائل نہ ہوتی اور دنیا کا کوئی بڑے سے بڑا بادشاہ بھی ایسی بات میرے متعلق کہتا تو پیشتر اس کے کہ اُس کی فوج حرکت کرتی میں اُس کی گردن کاٹ کر رکھ دیتا۔صرف احمدیت ہی میرے راستے میں روک ہے وگرنہ ہمارے خاندان نے کبھی کسی کی بیہودہ بات نہیں سنی۔ہمارا خاندان انگریزوں کے عہد میں بھی رہا ہے اور سکھوں کے عہد میں بھی لیکن اس کے کسی فرد نے کبھی کسی کی لجاجت اور خوشامد نہیں کی اور اعزاز کے لحاظ سے اس کا ایسا رتبہ تھا کہ دہلی کا وزیر ایک دفعہ یہاں آیا اور اُس نے افسوس کیا کہ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ مغلیہ خاندان کے ایسے افراد بھی ہندوستان میں موجود ہیں تو میں کبھی ایسے سکتے آدمی کو دہلی کے تخت پر نہ بٹھلاتا۔مگر چونکہ ہمارا خاندان خوشامد پسند نہ تھا اس لئے وہ با وجود بہت بڑے اعزاز کے دہلی سے بے تعلق رہتا تھا۔غرض ذاتی طور پر ہم لوگ دنیا کے کسی فرد سے نہیں ڈرتے اور کسی حکومت کی بھی پرواہ نہیں کرتے لیکن اسلام اور احمدیت نے ہمارے اعمال پر آکر ایک اور رنگ چڑھا دیا ہے اور ہم اس کے احکام کے ماتحت اپنے جذبات پر قابو ر کھنے پر مجبور ہیں اور جس طرح میں اپنے جذبات پر