خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 335 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 335

خطبات محمود ۳۳۵ بزرگ کو ایک تحریر دی کہ دراصل آرڈر دینے میں غلطی ہوگئی ہے آپ کو نہیں بلایا گیا۔جب انسان اللہ تعالیٰ پر توکل کرے تو وہ خود مددگار ہو جاتا ہے۔میرا یہ مطلب نہیں کہ دوستوں سے مدد بالکل نہ لی جائے ضرور لی جائے لیکن جس سے کوئی تعلق نہ ہو اُس سے لینا ٹھیک نہیں کیونکہ یہ سوال ہے۔ہاں اگر خود کسی کا کام کیا ہو تو اُس سے کام لینے میں کوئی حرج نہیں۔کام بھی کئی قسم کے ہوتے ہیں۔بعض لوگ کہتے ہیں ہمارا فلاں سے بڑا تعلق ہے کیونکہ میں نے ایک دفعہ اسے راستہ بتا یا تھا حالانکہ یہ کوئی تعلق نہیں۔پھر بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ فلاں آدمی کو ہم نے الیکشن میں ووٹ دیا تھا حالانکہ یہ بھی کوئی احسان نہیں۔ووٹ آخر کسی کو تو دینا ہی تھا یہ تو ایسا ہی احسان ہے جیسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سنایا کرتے تھے کہ ایک شخص کسی کے ہاں مہمان گیا۔جب چلنے لگا تو میزبان نے کہا معاف فرمائیے گھر میں تکلیف ہونے کی وجہ سے میں آپ کی اچھی طرح خاطر مدارات نہ کر سکا۔اس پر مہمان کہنے لگا تم بہت احسان نہ جتاؤ میرا بھی تم پر بڑا احسان ہے جب تم میرے لئے کھانا لانے گئے تھے میں تمہارے مکان کو آگ لگا سکتا تھا مگر میں نے نہیں لگائی۔ملک نے جدو جہد کی اور اپنے لئے حقوق مانگے اور ووٹ دینے کا حق لیا اب اگر ووٹ کسی معقول آدمی کو دے دیا تو یہ کوشش کی کہ ہمارا نمائندہ کوئی نا معقول نہ ہو جائے اور اس طرح اپنا فرض ادا کیا اور اپنا حق استعمال کیا۔اس شخص پر اس کا کیا احسان ہوا۔اب مجلس مشاورت میں انجمنوں کے جو نمائندے ہو کر آتے ہیں کیا جماعتیں ان پر کوئی احسان کرتی ہیں ! نہیں ! بلکہ یہ مجھتی ہیں کہ یہ ہماری طرف سے کام کرنے چلے ہیں اور اگر نمائندے دیانتداری سے کام کریں تو یہ ان کا احسان ہے کہ اپنا حرج کر کے اور اپنا کام چھوڑ کر ہمارا کام کرتے ہیں۔پس یہ ان کا احسان ہے نہ کہ ہمارا ان پر۔یہ کوئی احسان نہیں اس لئے اس کی بناء پر کسی کو تکلیف نہیں دینی چاہئے۔مؤمن کے اندر وقار اور اللہ تعالیٰ پر اعتماد ہونا چاہئے اور جب اس پر ایمان ہو تو وہ ضرور کوئی نہ کوئی راہ نکال دیتا ہے۔پس دوستوں کو تو کل پر اپنے کاموں کی بنیاد رکھنی چاہئے اور اپنے اندرایسا وقار پیدا کرنا چاہئے کہ دوسرے سمجھیں یہ اللہ تعالیٰ پر پورا بھروسہ رکھتے ہیں۔لیکن اگر ہم بھی دوسروں کے دروازوں پر دستک دیتے پھریں تو لوگ یہی کہیں گے کہ ان کے اندر تو کل