خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 334 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 334

خطبات محمود سال ۱۹۳۰ء وقت کی قدر جانتا ہو۔اگر ایک آدمی خود بھی سست رہے اور اولاد کو بھی سست اور نکما ر کھے تو وہ متوکل نہیں بلکہ تو کل کا سخت مخالف اور تو کل کی جڑ کاٹنے والا ہے۔ہمارے دوست جب وعدہ کر چکے ہیں کہ وہ دنیا میں ایک نئی جماعت بن کر رہیں گے اور دنیا میں ایک پاک تبدیلی اور انقلاب پیدا کریں گے تو انہیں چاہئے ایک نَعْبُدُ کی روح اپنے اندر پیدا کریں دوسروں سے زیادہ محنت کریں اور پھر نتیجہ کے لئے گھبرائیں نہیں بلکہ اسے خدا تعالیٰ پر چھوڑ دیں۔بعض لوگ میرے پاس آتے ہیں کہ فلاں آدمی کے پاس ہماری سفارش کر دو۔میں سفارش کو ایسا بر اسمجھتا ہوں گویا یہ موت ہے مگر پھر بھی اس خیال سے کہ وہ یہ نہ کہیں کہ ہمارا کوئی خیال نہیں رکھا جاتا تو کر دیتا ہوں مگر اسے نہایت نا پسند کرتا ہوں۔ایسے لوگوں کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کسی سے روپیہ تو نہ مانگا جائے لیکن چیز مانگ لی جائے کوئی شخص یہ تو نہیں کہتا کہ فلاں سے مجھے دس روپے لے دو لیکن یہ کہہ دیتے ہیں کہ کام کر دو حالانکہ یہ بھی سوال ہی ہے۔پس خود محنت کرنی چاہئے اور نتیجہ خدا پر چھوڑ دینا چاہئے۔ہاں اگر کسی سے خود کوئی سلوک کیا ہو تو پھر اس سے مدد لینے میں کوئی حرج نہیں لیکن جس سے کوئی تعلق نہ ہو با ہمی لین دین نہ ہوا سے خواہ مخواہ تکلیف دینا فضول ہے۔مؤمن کو متوکل ہونا چاہئے، اعمال میں سستی نہیں کرنی چاہئے اور دوسرے کا دست نگر نہیں بننا چاہئے۔اللہ تعالیٰ سے ہی دعا کرنی چاہئے کہ وہ اپنے فضل۔سامان پیدا کر دے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام یا شاید حضرت خلیفہ اول ایک بزرگ کا واقعہ سنایا کرتے تھے۔اسے بادشاہ کا حکم ملا کہ آپ کے متعلق ہمارے پاس شکایت پہنچی ہے آپ فورا حاضر ہوں۔وہ چل پڑے اور ابھی کوئی بیس میل گئے ہوں گے کہ سخت طوفان اور بارش آگئی وہاں اور تو کوئی پناہ کی جگہ نہ تھی ایک کٹیا نظر آئی اُس کے اندروہ گئے تو اندر ایک لنگڑ ائو لا اپاہج پڑا تھا آپ نے اس سے پوچھا بھئی اگر اجازت دو تو تھوڑی دیر یہاں آرام لے لوں۔اُس نے آپ کا نام وغیرہ پوچھا اور جب آپ نے اپنا نام اور مقام وغیرہ کا پتہ دیا تو وہ خوشی سے اچھل پڑا اور کہا میرے تو بھاگ جاگ پڑے کہ آپ کی زیارت ہو گئی۔میں تو کئی سال سے دعا کر رہا تھا کہ خدا تعالیٰ آپ کی زیارت کا موقع دے۔اُس بزرگ نے کہا پھر تیری کشش ہی مجھے یہاں لے آئی ہے اور ان بادشاہ کا حکم محض ایک بہانہ ہے۔اتنے میں ایک سوار اُدھر سے گذرتا ہوا نظر آیا اس نے ان