خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 328 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 328

خطبات محمود ۳۲۸ ۴۳ سال ۱۹۳۰ء تو تکل کا حقیقی مفہوم (فرموده ۲۱ - مارچ ۱۹۳۰ء) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے مؤمن کا نام متوکل رکھا ہے اور مؤمن کی اس صفت کو اس قدر پسند فرمایا ہے کہ فرماتا ہے جو لوگ متوکل ہو جاتے ہیں ہم ان سے محبت کرنے لگ جاتے ہیں۔تو کل کیا چیز ہے؟ اس کے متعلق مسلمانوں میں بڑی بحثیں ہوئی ہیں۔بعض نے اس کا صحیح مفہوم سمجھا، صحیح بیان کیا اور اس پر صحیح طریق سے عمل کیا ہے مگر بعض نے غلط سمجھا، غلط بیان کیا اور غلط طور پر ہی عمل کیا اور افسوس کی بات یہ ہے کہ آخری زمانہ میں مسلمانوں میں اس کا مفہوم وہی رہ گیا ہے جو غلط ہے۔مسلمان تو کل کے معنے یہ سمجھتے ہیں کہ انسان کوئی کام نہ کرئے نکھتا ہو کر بیٹھ جائے اور دنیا وَمَا فِيهَا سے بے خبر ہو جائے بلکہ اگر میں حقیقی طور پر اس شخص کی کیفیت بیان کروں جسے آج کل متوکل کہا جاتا ہے تو یہ بھی نہیں کہوں گا کہ نکتا ہو کر بیٹھ جائے کیونکہ دنیا میں کوئی انسان نکما نہیں دیکھا گیا۔ہر شخص کوئی نہ کوئی کام ضرور کرتا ہے خواہ وہ کام اچھا ہو یا ئیرا۔جن لوگوں کو سکتے کہا جاتا ہے وہ بھی کوئی نہ کوئی کام ضرور کرتے ہیں وہ آوارہ گردی یا چوری یا کوئی اور برائی کرتے ہیں۔غرضیکہ دنیا میں کوئی انسان نکتا نہیں ملتا۔فرق صرف یہ ہے کہ کوئی تو کام کا کام کرتا ہے اور کوئی بے فائدہ لغو یا مضر کام کرتا ہے اس لئے ایسے لوگوں کو نکما کہنا بھی ٹھیک نہیں۔بلکہ یہ بات حقیقت سے زیادہ قریب ہوگی اگر کہیں کہ وہ ایسے کام کرتے ہیں جن کے کرنے سے ان کی اپنی ذات کو یا دنیا کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔مثلا بیٹھے دوستوں سے باتیں کرتے رہے یا عیاشی میں