خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 306 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 306

خطبات محمود ٣٠٦ سال ۱۹۳۰ء بلکہ انہیں اپنے اندر قائم رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔سرکاری حکام اگر کسی جگہ جاتے ہیں تو لوگ چٹی سمجھتے ہیں کیونکہ انہیں ان کے جانوروں کے لئے گھاس ان کے کھانے کیلئے چیزیں ان کے ملازموں کے لئے رشوت مہیا کرنی پڑتی ہے اس لئے ان کے چلے جانے پر وہ خوش ہوتے ہیں۔لیکن اللہ تعالیٰ کے احکام ظالم حاکم کی طرح نہیں ہوتے بلکہ رحمت ہوتے ہیں اور ان کا جانا ہماری تباہی کی علامت ہوتا ہے۔نماز کا وقت اس لئے نہیں آتا کہ اسے گھر سے نکال دیا جائے اسی طرح رمضان اس لئے نہیں آتا کہ ہم اسے یونہی گزار دیں بلکہ مؤمن کے لئے ہمیشہ اپنے پاس رکھنے والی چیزیں ہیں جو مؤ من ایک بار بھی کچی نماز خلوص دل سے ادا کر لیتا ہے پھر اس کے دل سے نما ز نکل نہیں سکتی۔وہ نماز ختم کرتے ہوئے سلام کہتا ہے مگر خدا کا حکم سمجھ کر۔اسی طرح غیر مؤمن سے تو رمضان جاتا ہے مگر مؤمن سے نہیں جا سکتا۔ہمارے ملک میں روزہ رکھا ؟ کیا عمدہ محاورہ ہے۔کیونکہ جو روزہ گذرتا ہے اسے ہم رخصت نہیں کرتے بلکہ رکھ لیتے ہیں اور وہ ہمیں ہمیشہ کیلئے خدا تعالیٰ کے فضلوں کا وارث بنا دیتا ہے۔احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر مؤمن سے کوئی خطا ہو جائے تو اس کے اعمال صالحہ اس کے لئے ڈھال اور سپر بن کر اسے تباہی سے بچا لیتے ہیں۔پس ہر نیکی کے متعلق یہ خیال رکھنا چاہیئے کہ وہ جائے نہیں بلکہ ہمارے اندر قائم رہے کیونکہ جو چیز گذر جاتی ہے وہ کوئی فائدہ نہیں دے سکتی فائدہ اسی سے اُٹھایا جا سکتا ہے جو باقی رہے۔قرآن کریم میں بھی والبقيت الصلحت " کہہ کر بتایا گیا ہے کہ نیک کام قائم رہنے والی چیزیں ہیں۔پس وہ رمضان جو ہماری صلاحیت میں گذرا ہے وہ باقی ہے۔وہ دن بے شک گذر گئے لیکن جب تک وہ نیک کام جو اس کا نتیجہ ہیں ہمارے اندر قائم ہیں وہ نہیں جائے گا۔مؤمن کو چاہئے کہ ہر چیز کو باقیات صالحات بنائے دن گذر جائیں مگر رمضان نہ گذرے۔رمضان عبادت کا نام ہے اور عبادت نہیں گذرا کرتی وہ دل میں رہتی ہے۔جو لوگ دنوں سے تعلق رکھتے ہیں وہ سمجھتے ہیں رمضان گذر گیا لیکن جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ رمضان عبادت ہے وہ جانتے ہیں کہ عبادت نہیں گذرا کرتی۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے جب بندہ کوئی نیک کام کرتا ہے تو اس کا ایک سفید نشان اس کے دل پر لگ جاتا ہے گویا وہ نیک کام سمٹ کر ایک نقطہ کی شکل میں اس کے دل میں آجاتا ہے پھر اور نیک کام کرتا ہے تو اور سفید نشان لگ جاتا ہے حتی کہ اس کا سارا دل سفید ہو جاتا ہے۔اسی طرح جوں جوں کوئی بُرے کام کرتا ہے سیاہ نشانات لگتے جاتے ہیں حتی کہ سیاہی