خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 300 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 300

خطبات محمود سال ۱۹۳۰ء لے اور کوشش کرے کہ اللہ تعالیٰ خود پکڑ کر اسے لے چلے تو وہ ضرور آہستگی سے چلے گا۔رسول کریم قدم قدم پر وحی الہی کا انتظار کیا کرتے تھے اور گومؤمن سے بھی یہی امید کی جاتی ہے کہ ہر بات میں خدا تعالیٰ سے ہدایت اور نور حاصل کرے لیکن یہ نہیں تو کم از کم اتنا تو غور کرے کہ یہ کام جو میں کرنے لگا ہوں منشائے الہی اور احکام رسالت کے مطابق ہے یا نہیں۔اور جب انسان غور کرنے کا عادی ہو جائے تو میں تجربہ کی بناء پر کہہ سکتا ہوں کہ اس طرح وہ پیش آنے والے نصف سے زیادہ فتنوں سے محفوظ رہ سکتا ہے۔لیکن جو لوگ سوچتے نہیں اور غور نہیں کرتے بلکہ جو جی میں آئے کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں ان کی اس دعا کا کہ اھدِنَا اے خدا! ہمیں خود چلا کچھ مقصد نہیں ہو سکتا۔تیسری چیز جو اس آیت سے معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ اھد کے معنی چلائے چل کے بھی ہوتے ہیں۔جس کا یہ مطلب ہوا کہ اسے پڑھنے والا اقرار کرتا ہے کہ باوجود خدا تعالیٰ کے چلانے کے پھر بھی راستہ میں کئی روکیں ہو سکتی ہیں اس لئے ضرورت ہے کہ خدا خود چلاتا جائے وگرنہ شیطان اس کے راستہ میں آکر روک پیدا کر دیتا ہے کیونکہ اُس وقت خدا بندے میں سے ہو کر آ رہا ہوتا ہے اور شیطان خدا تعالیٰ سے اُس وقت بھاگتا ہے جب وہ اپنے جلال میں ظاہر ہو۔اس کی مثال ایسی ہے جیسے اگر شکاری شکار کے سامنے ظاہر ہو جائے تو شکار بھاگ جائے گا لیکن اگر وہ کسی بیل یا کسی اور چیز کی اوٹ میں چلے تو شکار نہیں بھاگتا۔اسی طرح جب خدا بندے میں سے ہو کر اسے چلا رہا ہوتا ہے اُس وقت شیطان راستہ میں کھڑا ہو سکتا ہے لیکن جب خدا تعالیٰ اپنے جلال میں نمایاں ہو کر ظاہر ہوتا ہے اُس وقت نہیں ٹھہر سکتا۔اس لحاظ سے ضروری ہے جو انسان کوئی نیک کام کرے وہ تھوڑے تھوڑے عرصہ کے بعد یہ بھی سوچ نے کہ اس میں کوئی غلطی تو پیدا نہیں ہوگئی۔میں نے بہتر سے بہتر سکیم جاری کر کے دیکھا ہے اگر دو تین سال تک اس پر غور نہ کیا جائے اس کی نگرانی نہ کی جائے تو کئی نقائص پیدا ہو جاتے ہیں۔جب دیکھا جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے بعض ہدایات پر عمل نہیں ہورہا ہوتا بعض ہدایات وقتی ہوتی ہیں ان کی ضرورت باقی نہیں رہتی اس لئے ان کا چھوڑ دینا ضروری ہوتا ہے۔بعض نقائص جو پہلے ذہن میں نہ تھے بعد میں پیدا ہو جاتے ہیں اسی طرح اگر بار بار نگرانی نہ کی جائے تو نیک کاموں میں بھی کئی نقائص پیدا ہو جاتے ہیں۔پس یہ دعا کرنی چاہئے کہ خدایا! نگرانی بھی کیجینو کہ ہم ٹھیک چلتے ہیں یا نہیں۔اب