خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 266 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 266

خطبات محمود ۲۶۶ سال ۱۹۳۰ء ہے خواہ وہ دفتری کام کے متعلق ہی کیوں نہ ہو۔اس کے بعد میں اُس خاص امر کے متعلق بیان کرنا چاہتا ہوں جو طالب علموں کی طرف سے میرے پاس پہنچا۔میں ان کا غذات کو پڑھ کر ان سے ایسے امور نکال لوں گا کہ ان کی تحقیقات کرنے پر طالب علموں پر کسی قسم کی گرفت نہ ہو سکے۔مثلاً اگر کسی ایسی بات کے متعلق تحقیقات کرائی جائے کہ فلاں نے ہم سے یہ بات کہی ہے تو اس سے پتہ لگ جائے گا کہ کن سے یہ بات کہی گئی۔ایسی باتوں کو میں چھوڑ دوں گا اور باقی جو باتیں ہیں انہیں لے لوں گا مگر طلباء کو میں بتانا چاہتا ہوں کہ اگر استادوں میں اس قسم کی باتیں پائی جاتی ہیں جن کا انہوں نے ذکر کیا ہے تو بھی ان پر دین کی طرف سے جو ذمہ داری عائد ہوتی ہے وہ دُور نہیں ہوسکتی۔ا استادوں کے متعلق اس قسم کی باتیں آج نہیں پہلے بھی کہی جاتی تھیں۔میں بھی طالب علم رہ چکا ہوں اُس وقت کے استادوں کی حالت خاص طور پر اس وقت کے استادوں سے اچھی نہ تھی۔دراصل لوگوں کا یہ عام طریق ہے کہ کہتے ہیں پہلے لوگ اچھے تھے اب ویسے نہیں۔جو لوگ اصل مرض کی تشخیص سے عاجز ہوتے ہیں وہ اپنی ذمہ داری کو ہلکا کرنے کے لئے ایسے بہانے بنا لیتے ہیں۔اگر اس قسم کی گواہیوں کو لیا جائے کہ کون سے زمانہ کے لوگ اچھے تھے اور کون سے زمانہ کے بُرے تو ہر زمانہ کے لوگ اپنے سے پہلے زمانہ کے لوگوں کو اچھا کہیں گے اور اپنے زمانہ کے لوگوں کو بُرا۔اور یہ سلسلہ حضرت آدم کے زمانہ تک چلتا جائے گا بلکہ ان کے متعلق بھی یہ کہنے والے ہوں گے کہ انہیں جنت سے نکال دیا گیا تھا۔سو یہ غلط طریق ہے۔اصل بات یہ ہے کہ جن لوگوں میں کمزوری پیدا ہوتی ہے وہ اس قسم کی باتیں بناتے ہیں۔یہ بہت بار یک مسئلہ ہے اور بہت وسیع ہے اور جب تک خدا تعالی کی ساری صفات نہ سمجھی جائیں یہ سمجھ میں نہیں آ سکتا۔غرض طالب علم اگر چاہیں تو بغیر استادوں کی مدد کے کام کر سکتے ہیں۔ہمارے زمانہ میں بھی ایسے استاد تھے جو ٹھٹھا مخول بھی کرتے تھے نام بھی دھرتے مگر اس وقت کام | ہوا۔جس وقت طلباء یہ کہتے ہیں کہ اب استاد اچھے نہیں پہلے اچھے ہوتے تھے تو مجھے تعجب آتا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ جب دوسرے پر بھروسہ کیا جائے اور یہ سمجھا جائے کہ فلاں نے یہ بوجھ اُٹھانا ہے تو پھر اس کے عیب دکھائے جاتے ہیں۔میں کوشش کروں گا کہ جو باتیں مجھ تک پہنچائی گئی ہیں ان کی اصلاح ہو مگر یہ کہنا کہ استاد چونکہ اچھے نہیں اس لئے کام نہیں ہوسکتا یہ ایسی ہی بات ہے جیسے