خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 259 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 259

خطبات محمود ۲۵۹ سال ۱۹۳۰ء کہتے ہیں یا کہاں ایسا ہو رہا ہے۔چاہئے کہ ایسے لوگوں کا نام لکھا جائے ورنہ اس امر کی طرف بھی توجہ نہیں کی جاسکتی۔توجہ اسی وقت ہو سکتی ہے جبکہ یا تو یہ لکھا جائے کہ فلاں بات میری چشم دید ہے یا میں نے اپنے کانوں سے سنی ہے یا زید یا بکر یا خالد کو کہتے سنا ہے۔یا فلاں نے مجھ سے کہا کہ میں نے یہ بات خود دیکھی یا سنی ہے اس طرح ایسی کڑی معلوم ہو جاتی ہے جس سے تحقیقات کی جا سکتی ہے۔کئی لوگ ہیں جو اس قسم کے خطوط بھیجتے ہیں کہ لوگ یوں کہتے ہیں یا یوں ہو رہا ہے اور پھر کہتے ہیں ان کے خط پر توجہ نہیں کی گئی حالانکہ جب وہ کسی کا نام ہی نہیں لکھتے تو توجہ کس طرح کی جائے۔اگر انہوں نے واقعہ میں کسی سے وہ بات سنی تھی تو سنانے والے کا نام کیوں نہ یاد رکھایا اگر کسی کو وہ بات کرتے دیکھا تھا تو اس کا نام کیوں نہ لکھا۔پس اس قسم کی رپورٹ کرتے وقت ضروری ہے کہ لکھا جائے فلاں کو یہ بات میں نے کرتے دیکھا یا فلاں نے مجھے یہ بات سنائی۔اگر یہ ڈر ہو کہ اس کا خط کسی اور کے ہاتھ میں نہ جا پڑے تو میں ایسے لوگوں کو تسلی دیتا ہوں کہ کوئی خط میرے پڑھے بغیر اور میرے خود بھیجے بغیر دفتر میں نہیں جاتا۔اس سارے عرصہ خلافت میں کوئی چار پانچ دفعہ ایسا ہوا ہے کہ شدید بیماری کی حالت میں ڈاک کا کچھ حصہ بغیر پڑھے دفتر میں چلا گیا بعض اوقات ایسے خطوط بھیج دیئے جاتے ہیں جن کے متعلق مجھے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں لبی تبلیغی رپورٹیں ہیں۔ان کے متعلق کہہ دیا جاتا ہے خلاصہ سنا دیا جائے۔ورنہ کوئی خط خواہ اس میں کوئی راز کی بات ہو یا نہ ہو دعا کے متعلق ہو یا کسی اور امر کے متعلق بغیر میری نظر سے گذرے اور بغیر میری مرضی کے دفتر میں نہیں جاتا۔اس کی وجہ یہی ہے کہ بعض دفعہ بعض خطوط میں ایسی باتیں ہوتی ہیں کہ اگر وہ دفتر میں چلی جائیں تو موجب ابتلاء ہوسکتی ہیں۔پس اول تو میں یہ تسلی دلاتا ہوں کہ کوئی خط کسی اور کے ہاتھ میں نہیں جاتا جب تک کہ میں اس کا جانا مناسب نہ سمجھوں۔لیکن اس کے علاوہ اس بارے میں ایک اور گر بھی بتا تا ہوں اور وہ یہ کہ لکھنے والا یوں لکھ سکتا ہے کہ بعض لوگوں کو میں نے یہ بات کرتے یا یہ بات کہتے سنا ہے لیکن چونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ میرا خط کسی اور کے ہاتھ میں نہ جاپڑے اس لئے اگر آپ نام پوچھیں گے تو بتا دیئے جائیں گے۔ایسی صورت میں اگر بھولے سے کوئی خط دفتر میں چلا بھی جائے گو جیسا کہ میں نے بتایا ہے ممکن سے ممکن احتیاط کی جاتی ہے تاہم اگر فرض کر لیا جائے ہزاروں میں سے