خطبات محمود (جلد 12) — Page 258
خطبات محمود ۲۵۸ سال ۱۹۳۰ء سے پہلے تو میں ایک اور امر کی طرف قادیان کے لوگوں کو اور باہر کے لوگوں کو طالب علموں کو اور دوسرے لوگوں کو توجہ دلاتا ہوں۔یہ ایک ایسا امر ہے جس کے متعلق لوگوں میں عام طور پر غلط نہیں پھیلی ہوئی ہے اور اس وجہ سے بعض لوگ حقیقت حال مجھ تک نہیں پہنچاتے یا اپنے خیال میں نہیں پہنچا سکتے۔میں اس بارے میں آج ایک عام ہدایت دینا چاہتا ہوں جس کے یا د ر کھنے سے احباب آئندہ ایسا طریق اختیار کر سکتے ہیں جو ان کے اپنے لئے بھی مفید ہو اور دوسروں کے لئے بھی فائدہ رساں ہو سکتا ہے۔سب سے پہلے اس امر کو یاد رکھنا چاہئے کہ کوئی ایسی رپورٹ یا ایسا خط جو گمنام ہو اس کی طرف میں توجہ نہیں کیا کرتا خواہ اس کا مضمون کتنا ہی اہم کیوں نہ ہو ایسے دوست خواہ وہ قادیان کے ہوں، خواہ باہر کے ہوں، طالب علم ہوں یا دوسرے لوگ ہوں جنہوں نے کوئی امر مجھ تک پہنچانا ہو انہیں یا درکھنا چاہئے کہ ایسی ہر ایک تحریر جس کے نیچے لکھنے والے کا نام نہ ہو اور صحیح نام نہ ہو ( مصنوعی اور بناوٹی نام اگر لکھ دیا جائے تو اس کی طرف بھی توجہ نہیں کی جاتی ) اس کی طرف قطعاً کسی صورت میں بھی میں توجہ کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں۔بلکہ اگر کسی امر پر توجہ کر بھی رہا ہوں اور اس کے متعلق گمنام خط آ جائے تو جان بوجھ کر اسے تعویق میں ڈال دیتا ہوں تا کہ بُزدلی اور منافقت کی سزا اس شخص کو ملے۔میرے نزدیک اس سے زیادہ بُزدلی اور کوئی نہیں ہو سکتی کہ بغیر اپنا نام ظاہر کئے کسی امر کی طرف توجہ دلائی جائے۔پس ایک تو اس امر کو یا د رکھو کہ کوئی تحریر بے نام نہیں ہونی چاہئے۔بیشک بعض حالات میں بعض انسانوں کو نام ظاہر ہو جانے پر تکلیف پہنچنے کا اندیشہ ہوتا ہے یا بعض لوگوں میں اتنی جرات نہیں ہوتی کہ سامنے ہو کر مقابلہ کر سکیں۔یا حالات ایسے ہوتے ہیں کہ جس امر کا وہ ذکر کرتے ہیں اس کا ثبوت وہ اپنی شہادت کے سوا کوئی اور نہیں دے سکتے۔ایسی حالت میں ایک طریق بتاتا ہوں اس پر عمل کر کے اپنی ذمہ داری سے بھی ایسے اصحاب سبکدوش ہو سکتے ہیں اور دوسروں کے لئے بھی مفید بن سکتے ہیں۔مگر قبل اس کے کہ میں وہ طریق بتاؤں یہ بھی بتا دیتا ہوں کہ اس بات کی طرف بھی توجہ نہیں کی جاتی جس کی کوئی ایسی کڑی نہ بتائی جائے جس سے اس امر کی تحقیقات کی جا سکے۔مثلاً لکھا جاتا ہے لوگ یوں کہتے ہیں یا ایسا ہو رہا ہے۔اس سے کیا پتہ لگ سکتا ہے کہ کون سے لوگ یوں