خطبات محمود (جلد 12) — Page 245
خطبات محمود ۲۴۵ سال ۱۹۳۰ء پچاسی تھی لیکن اس سال ۱۷ ہزار تین سو سولہ۔پس اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے ہمیں ترقی کرنے کا موقع دیا۔اسی تسلسل میں میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ احباب جماعت کو چاہئے اگلے سال میں خدا تعالیٰ کے شکریہ کے طور پر اپنی دینی کوششوں میں اور بھی وسعت پیدا کریں۔میں نے جلسہ کے موقع پر بھی اعلان کیا تھا کہ ہر احمدی اقرار کرے کہ وہ اگلے سال میں کم از کم ایک نیا احمدی اپنے رتبہ اور علم کا بنانے کی کوشش کرے گا۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ دوسروں کو نظر انداز کر دیا جائے بلکہ ان میں بھی جہاں تک ہو سکے تبلیغ کو جاری رکھا جائے لیکن اپنے رتبہ اور حیثیت کا ایک ایک آدمی جماعت میں داخل کرنے کی کوشش ضرور کی جائے تا امراء اور غرباء دونوں میں تبلیغ کا سلسلہ برابر جاری رہے۔یہ ایسا عمل ہے کہ اگر جماعت اس میں پوری کوشش سے کام لے تو چند سال میں ہی بہت ترقی کر سکتی ہے۔اور اس سے وہ حصہ بھی جو کمزوریا میدان عمل سے پیچھے بہنے والا ہے ابتلاؤں اور مصیبتوں سے بچ سکتا ہے کیونکہ جماعت کی ترقی کے ساتھ مالی حالت بھی اچھی ہوتی چلے جائے گی اور وہ لوگ جنہیں مدنظر رکھتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ :۔اگر کوئی میرے قدم پر چلنا نہیں چاہتا تو مجھ سے الگ ہو جائے مجھے کیا معلوم ہے کہ ابھی کون کون سے ہولناک جنگل اور پُر خار باد یہ در پیش ہیں جن کو میں نے طے کرنا ہے۔پس جن لوگوں کے نازک پیر ہیں وہ کیوں میرے ساتھ مصیبت اُٹھاتے ہیں۔جو میرے ہیں وہ مجھ سے جدا نہیں ہو سکتے۔نہ مصیبت سے نہ لوگوں کے سب و شتم سے نہ آسمانی ابتلاؤں اور آزمائشوں سے ہے وہ بھی راستہ کی سہولتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے چلنے کے قابل ہو جائیں گے۔گو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ جن لوگوں کے نازک پیر ہیں وہ کیوں میرے ساتھ مصبیت اُٹھاتے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ایسے لوگ ضرور ہی علیحدہ ہو جائیں یا انہیں علیحدہ کر دیا جائے۔آپ نے صرف مشکلات سامنے رکھ دی ہیں تا جو ان کی برداشت کی طاقت اپنے اندر نہ پاتے ہوں علیحدہ ہو جائیں۔لیکن ان کو دیکھتے ہوئے بھی اگر کوئی شخص شامل رہنا چاہتا ہے اور آگے بڑھنے کی آرزو اپنے دل میں رکھتا ہے تو یہ اس کی مرضی ہے۔جماعت کے بڑھ جانے سے ایسے لوگوں کے لئے بھی سہولتیں مہیا ہو جائیں گی۔کیا یہ تعجب کی بات نہیں کہ رسول کریم