خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 244 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 244

خطبات محمود ۳۳ نئے سال کیلئے جماعت احمدیہ کا پروگرام فرموده ۳- جنوری ۱۹۳۰ء) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: آج کے خطبہ میں بعض اور باتیں بیان کرنا چاہتا تھا لیکن ایک تو اس وجہ سے کہ صبح سے میری طبیعت کچھ خراب ہے اور دوسرے اس خیال سے کہ یہ جمعہ نئے سال کا پہلا جمعہ ہے ہمیں اس موقع پر خوشی اور شکر کے جذبات کا ہی اظہار کرنا چاہئے اور ایسے امور کو جو تکلیف دہ ہوں کسی دوسرے وقت کے لئے اُٹھا رکھنا چاہئے میں نے اپنا خیال ترک کر دیا۔پس میں پہلے تو اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور احسانوں کا شکر ادا کرتا ہوں جس نے محض اپنے فضل و کرم سے ہمیں ایک اور سال کے ختم کرنے کی توفیق عطاء فرمائی اور اس کے خاتمہ پر جماعت کو نمایاں ترقی بھی عطا کی۔کیونکہ جلسہ سالانہ کے موقع پر ہی چھ سو سے زیادہ احباب نے بیعت کی ہے۔ذاتی طور پر بھی باوجود یکہ پچھلے سال میری طبیعت خراب رہی۔اس جلسہ کے بعد میں ایسی کوفت محسوس نہیں کرتا جو انسان کو نکما کر دیتی اور اس کی قوت کو باطل کر دیتی ہے۔اللہ تعالٰی قرآن کریم میں فرماتا ہے۔لین شكرتُمْ لَا زِيدَنَّكُمْ یعنی اگر تم شکر کرو گے تو میں اپنی نعمتیں تم پر زیادہ کروں گا۔اس نے ہمارے عملوں اور کوششوں سے بہت بڑھ کر ہمیں ترقی عطاء کی ہے اور باوجو د سخت مشکلات سخت مصائب اور مخالفتوں کے جماعت کا قدم پیچھے نہیں ہٹنے دیا اور باوجود یکہ اس سال لوگوں کو متیں ملنے میں بہت سی رکھیں پیش آئیں پھر بھی جلسہ پر پچھلے سال سے حاضری قریبا پانصد زیادہ رہی۔یعنی پچھلے سال مہمانوں کی کل تعداد خوراک کی پرچیوں کے لحاظ سے سولہ ہزار آٹھ سو