خطبات محمود (جلد 12) — Page 224
خطبات محمود سال ۱۹۲۹ء تو خدا تعالیٰ نے عذاب میں بھی تدریج رکھی ہے تا انسان اگلے عذاب کے خوف سے پر ہیز کرنا شروع کر دے۔اسی طرح اگر جہنم ہی سزا ہوتی اس سے کم درجہ کی کوئی سزا نہ ہوتی تو انسان اپنی اصلاح کبھی نہ کر سکتا۔غرض عذابوں کی مختلف اقسام کی حکمت یہی ہے۔یہی حال انعامات کا ہے اگر سارے انعام انتہائی درجہ کے ہی ہوتے اور اکٹھے ہی مل جاتے تدریجی انعام نہ ہوتے تو انسان ان سے فائدہ نہ حاصل کر سکتا۔اگر بچہ پیدا ہوتے ہی عالم ہوتا تو وہ علم میں تدریجی ترقی اور پیہم کامیابیوں کی مسرتوں سے محروم رہتا۔یا اگر انسان بوڑھا ہی پیدا ہوتا تو وہ جوانی کی لذتوں اور اُمنگوں سے جو اس کے دل میں موجزن ہوتی ہیں اور جن کی وجہ سے وہ سمجھتا ہے کہ ساری دنیا میرے قبضہ اور تصرف میں ہے ان سے محروم رہ جاتا اور اگر اس کی ہمیشہ جوانی کی ہی حالت رہتی تو بڑھاپے کی عاقلانہ اور حکیمانہ زندگی کی لذتوں سے محروم رہتا۔پھر کئی نعمتیں ایسی ہیں جن سے بچپن میں اور کئی ایسی ہیں کہ ان سے جوانی میں اور اسی طرح کئی ایسی ہیں کہ ان سے بڑھاپے میں مزا ملتا ہے لیکن اگر ہمیشہ ایک ہی حالت رہتی تو انسان تمام نعمتوں سے محروم رہتا۔اور اس طرح وہ لذات جو آہستہ آہستہ حاصل ہوتی اور جو گرید گرید کر ایک چیز نکالنے میں ملتی ہے اس کا مزا جاتا رہتا۔گرمی کے دنوں میں بچے عموماً ایسا کرتے ہیں اور جب ہم بچے تھے تو ہم بھی ایسا ہی کرتے تھے گو اس وقت ہم انہیں دیکھ کر تعجب کرتے ہیں اسی طرح ہمارے بزرگ ہمیں دیکھ کر متعجب ہوتے ہوں گے۔بچے خربوزوں کے بیج نکالتے ہیں اور پھر ایک ایک کر کے انہیں کھاتے ہیں لیکن اگر سارے بیج نکال کر ان کے سامنے رکھ دیئے جائیں تو ان کا سارا مزا جاتا رہے گا۔اسی طرح چلغوزے اور اخروٹ ہیں ان کا مزا چھلکوں کے اندر سے آہستہ آہستہ نکال کر کھانے سے ہی ہے۔روٹی کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے اسے چبانے میں ہی لطف آتا ہے اگر ایک ہی دفعہ روٹی انسان کے حلق سے اُتار دی جائے تو اس کا کوئی مزا اُسے نہ آئے گا۔اگر اس طرح کیا جائے کہ دو چار پانچ دس ہیں جتنی بھی روٹیاں ایک انسان کی غذا ہو انہیں ایک دم اس کے پیٹ میں ڈال دیا جائے تو اسے اس سے کوئی لطف حاصل نہ ہوگا۔روٹی کا مزا اُسے چبا چبا کر کھانے سے ہی ہے اکٹھی کھانے سے کوئی مزا نہیں مل سکتا۔تو آہستہ آہستہ نعمتوں کا ملنا بذات خود ایک نعمت ہے۔روٹی ایک نعمت ہے لیکن اسے بار بار کھانا اور لقمہ تر کر کے کھانا بجائے خود ایک نعمت ہے۔اسی طرح اگر ایک شخص کو کروڑوں من غلہ یکدم مل جائے تو بے شک اسے بڑی خوشی ہوگی