خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 220 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 220

خطبات محمود ۲۲۰ بغیر ترقی نہیں ہو سکتی۔شکایت پر صرف وہی تکلیف دہ ہوتی ہے جو رنج کے طور پر ہو۔ایسی شکایت بعض اوقات ایمان کو ضائع کر دیتی ہے۔لیکن جو قوم شکایت بالکل کرنا ہی نہیں جانتی وہ کبھی ترقی نہیں کر سکتی۔ہمارا عیب جس طرح ہمسائے کو نظر آ سکتا ہے ہمیں خود نہیں آ سکتا اس لئے جو نقائص انتظام میں ہوں وہ ظاہر کئے جائیں تا آئندہ اس کے متعلق اصلاح ہو سکے۔میں اس قسم کی نکتہ چینی کو بُر انہیں سمجھتا بلکہ اسے ضروری سمجھتا ہوں اور جو شخص ایسی شکایت نہیں کرتا وہ میرے نزد یک قومی خدمت سے آنکھیں بند کرتا ہے اور زیر الزام ہے۔لیکن ایک شکایت اپنی وجہ سے ہوتی ہے کہ مجھے یہ تکلیف ہوئی۔ایسی شکایت کرنے والا یہ نہیں دیکھتا کہ اس ایک کی تکلیف سے سو یا ہزار کو آرام بھی پہنچا۔پس ایسی تکلیف بجائے امن کے فتنہ اور بجائے اتحاد کے تفرقہ پیدا کرنے والی ہوتی ہے۔ایسی شکایت سے بچنا چاہئے اور یہ خیال کرنا چاہئے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے لئے آئے ہیں یہ امتحان کا موقع ہے۔لوگ دنیا بھر کا سفر کر جاتے ہیں لیکن چونکہ وہ دین کے لئے نہیں ہوتا نیز اس وجہ سے کہ وہ اپنے آرام کے سب سامان کر لیتے ہیں اس لئے انہیں کوئی ثواب نہیں ہوتا۔لیکن یہ سفر دین کے لئے ہوتا ہے اور اس کا بڑا درجہ ہے اس لئے اگر کوئی معمولی تکلیف بھی پہنچے تو اس کی پرواہ نہیں کرنی چاہئے۔چوتھی قربانی اوقات کی قربانی ہے۔جو لوگ قادیان کے یا باہر کے کام کرتے ہیں وہ تو اپنے اوقات کی قربانی کر ہی دیتے ہیں اس لئے اس میں بھی وہ میرے مخاطب نہیں بلکہ باہر کے دوست ہیں انہیں جہاں تک ہو سکے اپنے اوقات بچا کر یہاں آنا چاہئے۔یہ جلسہ سلسلہ کی عظمت کا نشان ہے یہ موقع آیت اور معجزہ کا ہوتا ہے اس لئے آیت میں شامل اور معجزہ کا جزو بننا بڑی ترقی کا موجب ہوتا ہے۔دوست نہ صرف خود آئیں بلکہ اپنے دوستوں کو بھی ساتھ لائیں۔میں نے بیسیوں لوگوں کو کہتے سنا ہے ہمارا فلاں عزیز یا دوست بات تک نہ سنتا تھا لیکن جلسہ پر آیا تو یا بیعت کر گیا یا بالکل قریب ہو گیا۔یہ ایسی برکات کا زمانہ ہوتا ہے کہ سخت دل سے سخت دل بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔وہ یہاں ایک عجیب رنگ دیکھتا ہے اس قدر خرچ ہو رہا ہے، تکلیف بہت ہے آرام بالکل نہیں لیکن ایسا حشر کا نظارہ وہ دیکھتا ہے کہ سب لوگ ملنکی لگائے کسی تکلیف کی پرواہ نہ کرتے ہوئے بیٹھے ہیں کہ دین کی کوئی بات کان میں پڑ جائے۔ہمارے جلسہ میں عشق کی نمائش ہوتی ہے جو دوسرے پر اثر کئے بغیر نہیں رہتی۔ہمارے ملک کے شاعر لیلی مجنوں یا ہیر رانجھا وغیرہ