خطبات محمود (جلد 12) — Page 219
خطبات محمود ۲۱۹ سال ۱۹۲۹ء رواج سا ہو گیا ہے جسے میں بُرا تو نہیں کہتا لیکن اس کی حد بندی ضرری ہو جانی چاہئے۔لوگ اپنے گھروں میں اپنے عزیزوں کو ٹھہرا لیتے ہیں اور مہمان بھی اس لئے ٹھہراتے ہیں کہ تھوڑے سے آدمی کھلی جگہ میں آرام سے رہ سکیں۔اس صورت میں گھر والا قربانی تو ضرور کرتا ہے لیکن سلسلہ کے بوجھ میں اس سے اتنی کمی نہیں ہو سکتی جتنی اس صورت میں ہو سکتی اگر وہی نظام سلسلہ کے ماتحت کی جاتی۔آخری صورت میں اس سے زیادہ فائدہ اٹھایا جا سکتا تھا اور اسی مکان میں زیادہ آدمی ٹھہرائے جا سکتے تھے۔میں اس سے قطعا تو نہیں روکتا لیکن اتنا ضرور کہوں گا کہ جہاں تک ممکن ہو اس سے بچنا چاہئے اگر ضروری اور لا بدئی ہو تو پھر اس طرح کر لو وگرنہ مکان منتظمین کے حوالے کر دو۔یا پھر اس طرح سہی کہ کچھ کمرے اپنے مہمانوں کیلئے رکھ کر باقی منتظمین کے سپرد کر دو کہ جتنے مہمان چاہو ٹھہرا لو۔یا خود اپنے مہمانوں کو اگر وہ بے تکلف دوست یا قریبی ہیں تو کہہ دو یہ جلسہ کے دن ہیں تکلیف ضرور ہوگی اس لئے ذرائگی برداشت کر کے کچھ اور مہمانوں کو بھی یہاں ٹھہر نے دو اور جو یہ کر سکے کہ مکان ہی منتظمین کے سپر د کر دے اور یہ کہہ دے کہ اتنے ہمارے بھی مہمان ہونگے باقی جتنے چاہو اپنے رکھ لو تو یہ سب سے ہی اچھا ہے۔پھر ایک قربانی آرام کی قربانی ہے اس کا زیادہ تعلق خدمت کرنے والوں سے ہے لیکن جو شخص خدمت کے لئے کھڑا ہوتا ہے اس کا یہی مطلب ہوتا ہے کہ وہ اپنا آرام قربان کرنے کیلئے تیار ہے اس لئے میرے مخاطب وہ نہیں بلکہ باہر سے آنے والے مہمان ہیں۔انہیں یہ امر مد نظر رکھنا چاہئے کہ گو قادیان کے رہنے والے اپنا سارا زور بھی لگا ئیں تو بھی انہیں وہ آرام نہیں مل سکتا جو وہ اپنے گھروں میں پاتے ہیں یا جو فارغ مکان میں یا اُس مکان میں مل سکتا ہے جس میں صرف چار پانچ آدمی ٹھہرے ہوں۔اکثر لوگ شکایت کرتے ہیں کہ ہم فلاں کے مکان پر ٹھہرے مگر اس نے شکل تک نہ دکھائی حالانکہ یہ شکایت کا موقع نہیں ہوتا بلکہ اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ وہ سلسلہ کے کام میں اس قدر مشغول رہا کہ مہمانوں کے پاس نہ جا سکا۔یہ شکایت کی جگہ نہیں بلکہ فخر کی بات ہے۔وہ کہہ سکتے ہیں ہمارے فلاں عزیز میں اس قدر للہیت اور والہانہ رنگ ہے کہ ہمارے ٹھہرنے کے باوجود وہ سلسلہ کے کاموں میں دن رات مشغول رہا۔پس چاہئے کہ وہ اس امر پر خوش ہوں لیکن بعض شکایت کرتے ہیں۔اسی طرح جو لوگ عام نظام کے ماتحت ٹھہرتے ہیں وہ بھی شکایت کرتے ہیں۔میرا یہ مطلب نہیں کہ شکایت بالکل ہونی نہ چاہئے کیونکہ شکایت کے