خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 211 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 211

خطبات محمود بھی خاص طور پر نرمی کی تعلیم دینے کا حکم دیا گیا ہے اگر چہ آپ کا نام مسیح رکھنے کی وجہ یہ بھی ہے کہ آپ عیسائیوں کی ہدایت کے لئے آئے اور اس لحاظ سے بھی مسیح کہلائے۔مگر یہ ایسی ہی بات ہے جیسے ہندوؤں کی طرف مبعوث ہونے کی وجہ سے آپ کو کرشن کا نام دیا گیا یا تمام اقوام عالم کی طرف بھیجے جانے کی وجہ سے محمد کا نام دیا گیا لیکن مسیح کے نام پر خاص زور ہے تا کہ آپ سختی کو دور کریں۔اسی لئے آپ نے یہ تعلیم دی۔،، خدا چاہتا ہے کہ تمہاری ہستی پر پورا پورا انقلاب آوے۔اور وہ تم سے ایک موت مانگتا ہے جس کے بعد وہ تمہیں زندہ کرے گا تم آپس میں جلد صلح کرو اور اپنے بھائیوں کے گناہ بخشو۔کیونکہ شریر ہے وہ انسان کہ جو اپنے بھائی کے ساتھ صلح پر راضی نہیں وہ کاٹا جائے گا کیونکہ وہ تفرقہ ڈالتا ہے۔تم اپنی نفسانیت ہر ایک پہلو سے چھوڑ دو اور باہمی ناراضگی جانے دو اور بچے ہو کر جھوٹے کی طرح تذلیل کرو تا تم بخشے جاؤ نفسانیت کی فربہی چھوڑ دو کہ جس دروازے کے لئے تم بلائے گئے ہو اس میں سے ایک فربہ انسان داخل نہیں ہوسکتا۔۲ اب اگر ہم اس خصوصیت کو مد نظر نہ رکھیں تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ ہم دنیا کو دھوکا دیتے ہیں جب خود اس تعلیم پر عمل نہیں کرتے تو کسی کو اس طرف بلانے کا ہمیں کیا حق ہے۔پس میں پھر ایک دفعہ جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ اس معاملہ میں بہت اصلاح کی ضرورت ہے۔ہمیں ایسا نمونہ دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہئے کہ لوگ سمجھیں ہم نے اپنے جذبات پر پورا پورا قابو پالیا ہے۔سوچنا چاہئے کیا سارے ہندو سارے عیسائی سارے سکھ آپس میں لڑتے رہتے ہیں؟ نہیں۔ان میں بھی اگر بعض لڑنے والے ہیں تو بعض صلح جو بھی ہیں۔پس اگر ہمارا بھی یہی حال ہوا کہ ہم میں بھی بعض جھگڑ افساد کرنے والے اور بعض صلح پسند ہوں تو دوسروں سے ہمیں امتیاز کیا ہوا۔امتیاز تو جب ہی ہو سکتا ہے کہ یا تو ہم میں سے جھگڑے فساد کی عادت بالکل مٹ جائے یا پھر ایسی خفیف رہ جائے کہ کبھی نظر نہ آئے اور اگر کوئی ایسا آدمی ہو جو ایسی حرکت کا ارتکاب کرے تو جماعت محسوس کرے کہ یہ کالی بھیڑ ہے جس نے ہمیں بدنام کیا ہے۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے اگر کسی بدی کو دیکھو اور طاقت ہو تو اسے ہاتھ سے مٹا دو اگر ہاتھ سے نہ مٹا سکو تو زبان سے روکو اگر اتنی بھی طاقت نہ ہو تو دل میں بُر امناؤ کے کہتے ہیں ایک بزرگ نے ایک شخص کو سارنگی بجاتے