خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 187 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 187

خطبات محمود IAZ مسال ۹ کے مطابق جو سب میں ہوتی ہے مطالبہ کیا گیا ہے ایمان کے اعلیٰ مدارج کا نہیں صرف اس کی تحریص ہے حکم نہیں، جو ا سے حاصل کر سکے کرے۔غرض یہ تفاوت ہمیں ہر جگہ نظر آتا ہے اور ساتھ ہی ہم دنیا میں دیکھتے ہیں کہ کمزور لوگ ہمیشہ اپنے لئے سہارے کی تلاش کرتے ہیں اس تفاوت کی بناء پر کئی ایک میں تو ایسی قابلیت ہوتی ہے کہ وہ آگے بڑھ جائیں لیکن کئی ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں اوپر اٹھنے کے لئے سہارے کی ضرورت ہوتی ہے۔جیسے بعض طالب علم ایسے ہوتے ہیں جو کتاب کو خود بخود مطالعہ کر کے اسے یاد کر لیتے ہیں لیکن بعض ایسے ہوتے ہیں جو خود تو نہیں پڑھ سکتے لیکن استاد کی مدد سے پڑھ کر یاد کر لیتے ہیں۔پھر بعض ایسے ہوتے ہیں جو صرف پڑھانے سے نہیں بلکہ یاد کرانے سے یاد کر سکتے ہیں اور بعض ایسے بھی ہوتے ہیں کہ خود انہیں استاد کس قدر یاد کرائے پھر بھی پوری طرح یاد نہیں کر سکتے۔وہ ایک حد تک تو علم حاصل کر سکتے ہیں، معمولی بول چال سیکھ سکتے ہیں لیکن اس سے آگے ترقی نہیں کر سکتے۔مثلا افریقہ کی ایک قوم ہے اسے غیر ملکی علوم یا د بھی کرادیے جائیں تو قلیل عرصہ میں وہ پھر بھول جاتے ہیں۔صرف چند الفاظ یا درکھ سکتے ہیں اس سے زیادہ نہیں کیونکہ ان کے دماغ کے Cells ہی ایسے ہوتے ہیں کہ زیادہ کی گنجائش ان میں نہیں ہوتی۔پس ان مختلف المدارج لوگوں کو دیکھتے ہوئے ضروری ہے کہ بعض ایسے استاد ہوں جو اپنے ذمہ فرض کر لیں کہ کمزوروں کو اُٹھائیں، اُبھار میں اور انہیں منزل مقصود کے قریب لانے میں ان کی مدد کریں۔قرآن کریم نے وَلْتَكُن مِّنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الخير میں اسی غرض کی طرف توجہ دلائی ہے۔یہ نہیں فرمایا کہ اس کام کے لئے سب کو مقرر کیا جاتا ہے بلکہ یہ بتایا ہے کہ تم میں سے ایک جماعت ایسی ہو جو لوگوں کو خیر کی طرف بلائے اور انہیں نفع پہنچائے۔لیکن نفع رسانی میں ہر ایک ایک جیسا نہیں ہو سکتا بعض صرف اتنا ہی تیرنا جانتے ہیں کہ اپنی جان بچا سکیں اور بعض اپنی جان بچانے کی طاقت بھی نہیں رکھتے۔پھر بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جو دوسروں کو بچا سکتے ہیں ان کا فرض ہے کہ دوسروں کو بچائیں۔پھر بعض اوقات کشتی ایسی جگہ ڈوبتی ہے کہ ساحل وہاں سے دور ہوتا ہے بعض لوگ تیرنا جانتے ہیں لیکن اتنا دم ان میں نہیں ہوتا کہ منزل پر پہنچ جائیں۔پس دوسروں کا جو تیر سکتے ہیں فرض ہے کہ انہیں بھی منزل پر پہنچائیں اور دہی جماعت کامیاب ہو سکتی ہے اور منزل پر پہنچ سکتی ہے جس کے صاحب استعداد لوگ کمزور بھائیوں کو فائدہ پہنچائیں اور اس طرح جماعت کے معیار کو بلند کرتے جائیں۔