خطبات محمود (جلد 12) — Page 178
خطبات محمود سال ۱۹۲۹ء دیدوں آخر درخواست دی گئی اجازت مل گئی مدیح کھل گیا۔مجھے تو ذاتی طور پر اس کی حاجت نہ تھی اور نہ ہی میں گائے کا گوشت کھانے کا عادی ہوں۔مجھے تو یہ ہضم بھی نہیں ہوتا بلکہ سوائے ایک دوصورتوں کے جو مجھے مرغوب ہیں گائے کے گوشت سے بعض صورتوں میں مجھے گھن آتی ہے مگر میری مخالفت اس لئے نہ تھی بلکہ اس لئے تھی کہ سلسلہ اور اسلام کا مفاد میرے خیال میں یہی چاہتا تھا۔مگر گائے کے گوشت کی مسلمانوں کو کچھ ایسی چاٹ ہے کہ اس کی یاد میں وہ تلملا رہے تھے اور میرے متعلق حیران تھے کہ اسے یہ خواہش کیوں نہیں۔آخر انکی خواہش پوری ہوئی اور دوستوں نے خوب کھایا بھی لیکن پھر خدا تعالیٰ کی مشیت نے اسے بند کر دیا جس پر ملک میں ایک اصولی سوال پیدا ہو گیا ہے کہ آیا کسی قوم کا یہ حق ہے کہ دوسری قوم کو اس کی جائز اور درست باتوں سے بالجبر روک دے۔میں چونکہ دو لحاظ سے نہیں چاہتا تھا کہ یہاں مدیح کھلے۔ایک تو اس لئے کہ اگر نقصان اٹھا کر بھی ہمیں ہمسائیوں کے احساسات کا لحاظ رکھنا پڑے تو کوئی حرج نہیں اور دوسرے اس لئے کہ اس سے ہماری توجہ تبلیغ سے ہٹ کر دوسرے امور میں لگ جائے گی۔اگر چہ اس میں شبہ نہیں کہ خدا تعالیٰ نے انسان کو ایک وقت میں ایک سے زیادہ کام کرنے کی قابلیتیں بھی بخشی ہیں مگر جوش پیدا کرنے والے کاموں کے متعلق خدشتہ ہوتا ہے کہ دوسرے کاموں سے توجہ پھیر نہ دیں۔جیسے عدم تعاون کے دنوں میں کئی نو جوان تعلیم ترک کر کے اب بے کا ر پھر رہے ہیں اگر چہ ان میں یہ مادہ تھا کہ وہ تعلیم کے حصول کے ساتھ ساتھ ہی ملکی مفاد کی بھی نگرانی کرتے لیکن جوش کی رو میں انہوں نے تعلیم کو چھوڑ دیا اور عام طور پر ایسے مواقع پر کمزور طبائع جوش کی رو میں بہہ جاتی ہیں اس لئے ڈر تھا کہ نقصان نہ ہو۔یا سلسلہ کا کام کرنے والوں پر نو جوانوں کے جوش کو دبانے اور پیدا شدہ مشکلات کا حل کرنے کی وجہ سے کام کا زیادہ بوجھ نہ پڑ جائے۔خیر مدیح بنا اور پھر گرا بھی دیا گیا اور اس کے گرنے کے ساتھ ہی حکومت کا رویہ بھی بدلنا شروع ہوا۔میں نے پہلے ہی لکھا تھا کہ جس وقت سے ملک میں حکومت خود اختیاری کا سوال پیدا ہوا ہے حکومت ہمیشہ زبر دست کا ساتھ دینے کی کوشش کرتی ہے کیونکہ کوئی خواہ کتنا بھی دیانتدار ہو اگر اس میں دینداری اور روحانیت نہیں تو وہ قومی مفاد کے مقابلے میں دیانتداری کی کوئی زیادہ پرواہ نہیں کرتا۔جس کے اخلاق کسی ہوں وہ جہاں بھی قومی سوال پیدا ہو گا انہیں خیر باد کہہ دیگا۔اسی لئے