خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 166 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 166

خطبات محمود سال ۱۹۲۹ء کہ حافظ صاحب ان کے ہم خیال ہیں تا کہ دوسروں پر اثر ڈالیں اور پھر تو انہوں نے یہاں تک کہا کہ قادیان میں کئی سو بہائی ہیں اور یہ بھی کہا کہ میرا ایک قریبی رشتہ دار بھی ان کا ہم خیال ہے۔اس طرح انہوں نے یہ بتانا چاہا کہ نَعُوذُ بِاللہ ان کے ذریعہ سلسلہ احمدیہ اندر سے کھوکھلا ہو چکا ہے اور بہت سے لوگ ان کے خیالات کو سچا سمجھنے لگ گئے ہیں۔حالانکہ یہ بالکل جھوٹ تھا۔غرض ان لوگوں کی یہ عادت ہے اور اس طرح یہ اپنا اثر قائم کرنا چاہتے ہیں۔ہو سکتا ہے کوئی کہہ دے کہ ممکن ہے یہ باتیں غلط ہوں اس لئے میں تحریری ثبوت دیتا ہوں۔” مقالہ سیاح“ بہائیوں کی ایک کتاب ہے۔وہ اس طرح لکھی گئی ہے کہ گویا ایک اجنبی نے لکھی ہے۔وہ لکھتا ہے میں نے بہائیوں کے حالات دیکھے۔فلاں واقعہ یوں ہوا اور فلاں واقعہ میرا چشم دید ہے۔بعض واقعات اس نے پرانے بھی لکھے ہیں لیکن بعض کو اپنا چشم دید بتاتا ہے۔ایک نا واقف شخص اس کتاب کو پڑھ کر سمجھتا ہے کہ ایک غیر جانبدار لکھ رہا ہے یہ باتیں کچی ہی ہونگی ورنہ اسے کیا ضرورت پڑی ہے کہ جھوٹی باتیں بیان کرے۔مگر وہ کتاب خود بہاء اللہ کے بیٹے عبد البہاء کی لکھی ہوئی ہے۔براؤن نے اسے شائع کیا اور بعد میں بتا دیا کہ عبد البہاء نے لکھ کر دی تھی کہ اسے شائع کر دیا جائے جب اس شخص کی یہ حالت ہو جو بہاء اللہ کا جانشین ہوا اور جسے یہ لوگ مسیح کہتے ہیں که خود ایک کتاب لکھتا ہے اور ظاہر یہ کرتا ہے کہ کسی اجنبی نے لکھی اور بعض واقعات جنہیں وہ اپنا چشم دید بتا تا ہے ایسے ہیں جو اس کی پیدائش سے بھی پہلے کے ہیں تو دوسروں کی کیا حالت ہوگی۔ان کی ایک اور کتاب ہے جس کا لکھنے والا اپنے آپ کو عیسائی یورپین اور فرانسیسی بتاتا ہے اور کہتا ہے مجھے مسلمان اور بہائی بنانے کی کوشش کی گئی مگر مجھے کسی سے کوئی تعلق نہیں میں ایک غیر جانبدار کے طور پر لکھ رہا ہوں مگر بعد میں اعلان کیا گیا کہ وہ کتاب فلاں بہائی نے لکھی ہے۔وہ ایک پارسی مانک جی کا سیکرٹری تھا جو اسیرانی اور بہائی تھا۔غرض بنیاد ہی اس قوم کی محض غلط بیانی پر ہے۔یہ لوگ ایسی ایسی باتیں کرتے ہیں جن میں کوئی حقیقت نہیں ہوتی اور بعض یورپین لوگوں نے تو لکھا ہے کہ بعض کتابیں جو بہائیت کی تردید میں مسلمانوں کی طرف سے بتائی جاتی ہیں وہ مسلمانوں نے نہیں لکھیں بلکہ خود بہائیوں نے ہی لکھی ہیں۔اس کے متعلق میں مثال سے سمجھاتا ہوں۔مثلاً ایک کتاب پر لکھا ہو حفظ الرحمن مسلمان نے لکھی مگر اس کے اندر یوں لکھا ہو کہ اعتراض کیا جاتا ہے اسلام کی رو سے عورتوں میں