خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 13 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 13

خطبات محمود سال ۱۹۲۹ء ہر ملک کی رعایا کو اپنے حکمران کی اطاعت کرنی چاہئے فرموده ۲۵۔جنوری ۱۹۲۹ء) الْحَمْدُ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ وَ نُؤْمِنُ بِهِ وَنَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ وَنَعُوذُ بِاللهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا وَمِنْ سَيَّاتِ اَعْمَالِنَا وَ مَنْ يَهْدِى اللهُ فَلا مُضِلَّ لَه وَمَنْ يُضلِلهُ فَلَا هَادِيَ لَه اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : جس قد ر اجتماع دنیا میں ہوتے ہیں ان سب میں بعض پہلو فتنے کے بھی ہوتے ہیں اور عقلمند انسان وہی ہوتا ہے جو ایسے پہلوؤں سے اپنے آپ کو بچائے رکھے۔اگر انسان جنگل میں جا رہے جہاں نہ کوئی اس کا ساتھی ہو اور نہ دوست نہ کسی سے وہ بات کرے اور نہ اس سے کوئی بات کرے نہ وہ کسی سے کچھ مانگے نہ اُس سے کوئی کچھ مانگے نہ اُس سے کوئی معاملہ کرے نہ وہ کسی سے معاملہ کرے تو ایسی زندگی میں کوئی دکھنیں پیش نہ آئیں گی لیکن ایسی زندگی کوئی خوشنما زندگی نہیں ہوگی بلکہ بُزدلی کی زندگی ہوگی۔جب تک کہ انسان ایسی تنہائی کی زندگی کو اس لئے اختیار نہ کرے کہ طاقت حاصل کر کے ملک یا قوم کی خدمت میں لگ جائے جیسے رسول کریم ﷺ نے کیا۔وہ خلوت بُزدلی کی وجہ سے نہ تھی دنیا کی تکلیفوں اور دقتوں سے ڈر کے باعث نہ تھی بلکہ ایسی تھی جیسے کوئی شخص ہتھیار لینے کے لئے گھر جاتا ہے۔وہ اس لئے میدان سے نہیں ہٹتا کہ ڈرتا ہے بلکہ اس لئے ہٹتا ہے کہ زیادہ بہتر صورت میں ملک یا قوم کی خدمت کر سکے۔پس اجتماع کے نتائج میں فسادات ضرور پیدا ہوتے ہیں لیکن ایسے موقعوں پر انسان کا اپنی عقل کو قائم رکھنا ہی دانائی ہے۔اس مسئلہ کو رسول کریم ﷺ نے نہایت عمدگی سے اور خوبصورت پیرا یہ میں ادا کیا ہے جب