خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 143 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 143

خطبات محمود ۱۳ سال ۱۹۲۹ء اس سے یہ سبق حاصل ہوتا ہے کہ انسان کو چاہئے کہ وہ نعمت جو اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملے اسے لے کر ترقی کرنے کی کوشش کرے۔زیادہ لینے کے لئے اسے چھوڑ نہ دے بلکہ اس کی قدر کرنے لا پرواہی سے اسے نظر انداز کر کے بھول نہ جائے۔مسلمانوں کے تنزل کے اسباب پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے یہی دو قسم کے اسباب ہیں کسی موقع پر تو یہ مَغْضُوبِ عَلَيْهِمُ بن کر ذلیل ہو گئے ہیں اور کہیں ضال ہو کر قعر مذلت میں گر گئے۔مَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ کی مثال خوارج ہیں جو انہیں حق نہیں دیا گیا تھا وہ انہوں نے لینا چاہا۔ولایت ان کو نہیں دی گئی تھی مگر وہ اسے اپنے قبضہ میں سمجھتے تھے۔اور ضالین ہونے کی مثال سنی لوگ ہیں خلافت کو مانا مگر مشورہ جو اس کے لئے ضروری تھا وہ چھوڑ دیا۔اس طرح جو نعمت خدا کی طرف سے انہیں ملی تھی اسے ترک کر دیا۔صحابہ رضی اللہ عنہم کے زمانہ میں یہ دونوں باتیں قائم تھیں خلیفہ نسلاً بعد نسل اللَّهُ عَنْهُمْ نہیں ہوتا تھا بلکہ انتخاب سے مقرر ہوتا تھا جو اہل الرائے اصحاب سے مشورہ لیتا اور بلا وجہ کسی مشورہ کو رد نہ کرتا تھا مسلمانوں کی رائے کا لحاظ رکھتا تھا بشر طیکہ وہ رائے امور دین کے خلاف نہ پڑتی ہو۔غرض گمراہی کی دوہی حالتیں ہوتی ہیں۔(۱) کبھی تو ملتا ہے مگر زیادہ طلب کیا جاتا ہے۔(۲) کبھی خدا دیتا ہے اور بندوں کی طرف سے لینے سے انکار کیا جاتا ہے۔آج کل مسلمانوں میں عورتوں کے حقوق ادا نہیں کئے جاتے اس لحاظ سے مرد مَغْضُوبِ عَلَيْهِمُ اور عورتیں ضالين ہیں۔مرد اس لئے کہ جو حقوق خدا نے عورتوں کے رکھے ہیں وہ ادا نہیں کرتے اور عورتیں اس لئے کہ وہ اپنے حقوق بھلا بیٹھی ہیں ان کا مطالبہ نہیں کرتیں۔آنحضرت ﷺ کے وقت حقوق کا بہت خیال رکھا جاتا تھا ایک دفعہ حضور نے دودھ پیا۔دائیں طرف ایک لڑکا بیٹھا تھا اور بائیں طرف حضرت ابو بکر۔چونکہ شریعت نے دائیں طرف والے کا حق مقدم رکھا ہے اس لئے پ نے اُس لڑکے سے فرمایا حق تو تمہارا ہے اگر تم پسند کرو تو ابوبکر کو دیدوں۔لڑکے نے عرض کی اگر میرا حق ہے تو میں حضور کا تبرک نہیں چھوڑ نا چاہتا۔رسول کریم ﷺے مسکرائے اور دودھ کا پیالہ اُسے پکڑا دیا لڑکے نے دودھ کے لئے یہ نہیں کہا تھا بلکہ تبرک کے لئے کہا تھا۔غرض اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے فائدہ اُٹھانے کی کوشش کرنی چاہئے۔یہ نہیں ہونا چاہئے کہ جو ملتی ہو اُس سے فائدہ نہ اٹھایا جائے اور جو نہ ملی ہوا سے ناجائز طریق سے لینے کی کوشش کی جائے اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ بڑے بھی ناراض ہو جائیں گے اور چھوٹے بھی۔بڑے اس لئے کہ چھوٹے حق T - صلى الله