خطبات محمود (جلد 12) — Page 142
خطبات محمود ۱۹۲۹ مضبوط ہو جاتا ہے اس مضبوطی اور ترقی کے بعد پھر وہ زمانہ آتا ہے کہ بوڑھا ہو کر کمزور ہو جاتا ہے حتی کہ ہوش و حواس قائم نہیں رہتے۔ایسے بڑھاپے سے بچنے کے لئے آنحضرت ﷺ نے دعا سکھلائی ہے کہ اے اللہ ! ایسا بڑھا پا نہ آئے جس میں لکھتا ہو جاؤں اور عقل ماری جائے۔انسان کو جسمانی کمزوری دو طرح سے لاحق ہوتی ہے۔اول طاقتوں کے غلط استعمال سے دوسرا بڑھاپے کی وجہ سے۔ایسا ہی مُنْعَمُ عَلَیہ انسان بھی دو طرح سے روحانی نقصان اٹھاتا ہے (1) مَغْضُوبِ عَلَيْهِ بن کر یعنی جن چیزوں پر اُسے حق نہیں اُن پر قبضہ جمانا شروع کرتا ہے اور اس طرح نقصان اُٹھاتا ہے۔جیسے ایک غلام خلاف مرضی اپنے مالک کی کچھ لے لے۔مالک ایک چیز دے اور وہ دو لے لے۔(۲) ضال بن کر یعنی منعم حقیقی تو چیز عطا کر دیتا ہے مگر دولے مُنْعَمْ عَلَيْہ اسے بھول جاتا ہے اور اس سے فائدہ نہیں اٹھاتا۔سورۃ فاتحہ میں جو دعا سکھلائی گئی اس کے ذریعہ دونوں قسم کے نقصانوں سے انسان بچ سکتا ہے اور یہی دو نقصان یا بالفاظ دیگر گمراہیاں ہیں جو دنیا میں آتی ہیں۔انبیاء کے ماننے والوں میں مَغْضُوبِ عَلَيْهِمُ لوگ اس طرح پیدا ہو جاتے ہیں کہ وہ خیال کر لیتے ہیں ہمارے لئے کسی نبی کی ضرورت نہیں۔جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے ان کے بعد یہ خیال کر لیا کہ اب نبوت کی ضرورت باقی نہیں رہی۔یا ضالین پیدا ہو جاتے ہیں یعنی انہیں خدا کی طرف سے نعمت ملتی ہے مگر اس طرف توجہ نہیں کرتے جیسے حضرت عیسی علیہ السلام کی قوم ہے کہ شریعت جو نعمت ہے اسے لعنت قرار دے دیا گیا۔یہود با وجود مغضُوبِ عَلَيْهِمُ ہونے کے اپنے خیالات کے سخت پابند ہوتے ہیں۔ایک مسلمان تو امور دین میں کوتا ہی کر لے گا مگر یہودی نہیں کرے گا۔ولائت جانے والے اکثر مسلمان جھٹکا کی دُکان سے گوشت لے کر استعمال کرلیں گے مگر یہودی جو وہاں رہتے ہیں وہ کبھی ایسا نہیں کریں گے لیکن باوجود اس کے چونکہ انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد آنے والے نبیوں کو ماننے کی ضرورت نہ سمجھی اس لئے مغضوب بن گئے۔غرضیکہ دونوں قسم کی ناشکریاں کی جاتی ہیں۔ایک اس طرح کہ کوئی چیز ملے اور اس سے زیادہ طلب کی جائے۔دوسرے یہ کہ کوئی چیز ملے اور اس کی طرف توجہ نہ کی جائے پس سورۃ فاتحہ میں غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمُ وَلَا الضَّالِّينَ کی دعا ان ہی ناشکریوں سے محفوظ رہنے کے لئے سکھائی گئی ہے۔