خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 128 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 128

خطبات محمود ۱۲۸ سال ۱۹۲۹ء ہے۔آیا لکڑی کو بھی مفید اشیاء میں سمجھا جانے لگا۔پھر آہستہ آہستہ بیج کا مفید ہونا معلوم ہو گیا اور چھال اور پتوں کے کارآمد ہونے کے متعلق بھی یقین پیدا ہو گیا غرضیکہ کوئی حصہ بھی غیر مفید نہ سمجھا گیا۔پتے جن کے متعلق خیال کیا جاتا تھا کہ کسی کام کے نہیں ہوتے کچھ عرصہ کے بعد معلوم ہو گیا کہ یہ مختلف کیمیاوی اجزاء رکھتے ہیں جن کے ذریعہ انسانی قومی کو طاقت حاصل ہوتی کمزور زمینوں میں کھاد کی صورت میں ڈالے جانے سے طاقت بخشتے ہیں۔غرض آہستہ آہستہ دنیا نے ترقی کی اور وہ چیزیں جو فضول نظر آتی تھیں وہ مفید نظر آنے لگیں۔انسانی فصلات کو ہی لے لیں کانوں کا فضلہ ناک کا فضلہ منہ کا فضلہ پاخانہ پیشاب وغیرہ بدترین فضلے سمجھے جاتے ہیں اور انسان پوری کوشش کرتا ہے کہ ان سے بچے۔مگر طب اور زراعت نے بتایا کہ ان میں بہت سے فوائد ہیں۔کان کی میل آنکھ کے علاج کے لئے بڑی مفید ثابت ہوئی ہے پیشاب زخموں کو اچھا کرنے میں مفید پایا گیا کہ جبکہ ابھی علم جراحی نے ترقی نہ کی تھی اور ANTISEPTIC طریقے معلوم نہ ہوئے تھے ایک صوفی نے تو یہاں تک لکھ دیا تھا کہ انسان کے لئے اس کے اندر مکمل علاج موجود ہے۔اب اور بھی سائنس ترقی کر رہی ہے۔پچھلے زمانے میں جو چیزیں صرف کھاد کا کام دیتی تھیں اب ان کے اور بھی فوائد ظاہر ہوتے جاتے ہیں۔غرض ہم پہاڑوں کی چوٹیوں پر قیام کریں یا سمندر کی تہہ میں چلے جائیں کسی جگہ نظر کریں خدا کی پیدا کردہ ہر چیز میں فوائد نظر آئیں گے۔اب تک جس قدر تجربہ ہو چکا ہے اس سے یہی ثابت ہوا ہے کہ دنیا میں کوئی چیز محض ضرر رساں نہیں بلکہ جنہیں محض ضرر رساں خیال کیا جاتا ہے ان میں بھی فوائد ہیں۔سانپ کو بہت ضرر رساں سمجھا گیا ہے مگر بہت سی لاعلاج بیماریوں کا اس کے زہر سے علاج کیا جاتا ہے اور لوگ ان بیماریوں سے شفا حاصل کرتے ہیں۔سنکھیا زہر قاتل ہے لیکن اس سے بھی بہت بڑی دنیا کو فائدہ پہنچتا ہے۔جہاں اس سے ہزاروں جانوں کا نقصان ہوتا ہے وہاں لاکھوں انسان اس سے شفا پاتے ہیں۔یہی سنکھیا پرانے بخاروں کو توڑنے میں اکسیر ثابت ہوا ہے۔جو لوگ بخار میں مبتلاء ہو کر دوائی کرتے کرتے تھک جاتے ہیں انہیں سنکھیا کی ایک خواک سے فائدہ ہو جاتا ہے پس ثابت ہوا کہ خدا تعالیٰ کی پیدا کردہ اشیاء میں کوئی بھی فوائد سے خالی نہیں۔یہ جو کچھ میں نے بیان کیا ہے تمہید ہے اس امر کی جو میں اس وقت بیان کرنا چاہتا ہوں۔