خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 119 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 119

خطبات محمود 119 ۱۵ سال ۱۹۲۹ خدا تعالیٰ کے سامنے جھک جاؤ اور اسی سے مدد مانگو فرموده ۱۴ - جون ۱۹۲۹ء ) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: انسان پر دنیا میں مختلف حالتیں آتی ہیں۔کبھی تو ایسی حالت آیا کرتی ہے کہ وہ اپنی ساری ضرورتیں خود پوری کر لیتا ہے اُس وقت اس کی توجہ اپنی طاقت اور قوت کی طرف جاتی ہے اور وہ اپنی کوشش پر گھمنڈ کرتا ہے لیکن کبھی ایسا ہوتا ہے کہ وہ خود اپنی ضرورت کو پورا نہیں کر سکتا اور اپنی مدد کے لئے اپنے عزیزوں، دوستوں اور رشتہ داروں کا محتاج ہوتا ہے اُس وقت اس کے ذہن میں یہ خیال آتا ہے کہ رشتہ داری اچھی چیز ہے۔پھر ایک وقت اُس کے اہل وعیال اور متعلقین بھی اس کے کام نہیں آسکتے اور اس کے ملنے والے اور دوست احباب اسکی مدد کرتے ہیں ایسے وقت میں اسکی نظر اپنے دوستوں پر پڑتی ہے اور وہ سمجھتا ہے دوست احباب بھی دنیا میں بہت مفید ہوتے ہیں جو آڑے وقت کام آتے ہیں۔پھر کبھی ایسا زمانہ اُس پر آتا ہے کہ دوست بھی اس کا ساتھ نہیں دے سکتے ایسے اوقات میں وہ بعض دفعہ بعض نظاموں کی طرف توجہ کرتا ہے اور وہ سلسلہ یا جماعت جس سے وہ تعلق رکھتا ہے اس کی مدد کرتی ہے۔اس طرح جب کئی دفعہ اس کا کام بن جاتا ہے تو اس کے دل میں خیال آتا ہے کہ نظام سے تعلق اچھی بات ہے اور سلسلہ یا جماعت سے اس کی وابستگی بڑھ جاتی ہے۔پھر کوئی وقت ایسا بھی آتا ہے کہ اس کے اہل وعیال رشتہ دار دوست احباب کوئی بھی اس کی مدد نہیں کر سکتے بلکہ نظام بھی اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔اُس وقت حکومت جس کے ساتھ وہ تعلق رکھتا ہے اس کی مدد کرتی ہے تب وہ یہ محسوس کرتا ہے کہ حکومت بھی