خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 56 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 56

خطبات محمود ۵۶ سال 1927ء قرب الہی حاصل کریں فرموده ۱۸ مارچ ۱۹۲۷ء) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : رمضان کے مہینے میں مسلمان جو زائد عبادتیں کرتے ہیں۔ان کی غرض و غایت کیا ہوتی ہے۔وہ کیوں اس مہینے میں زیادہ عبادت کرتے ہیں؟ یہ سوال ہے جو ہر سمجھدار اور عقل مند کے دل میں اٹھتا ہے۔آخر ایک انسان جسے اللہ تعالیٰ نے صحت دی۔طاقت دی ہے۔ہضم کرنے والا معدہ دیا ہے۔بھوک پیدا کی ہے۔یکدم اسے کیا ہو جاتا ہے کہ وہ کھانا پینا چھوڑ دیتا ہے۔اور اپنی دوسری حاجتوں کو ترک کر کے ایک لمبے عرصہ تک اپنے نفس پر اس قسم کا جبر کرتا ہے جس کا وہ پہلے عادی نہیں ہو تا۔اگر عقل مند وہ ہوتا ہے جس کی چھوٹی سے چھوٹی حرکت اور چھوٹے سے چھوٹا عمل بغیر حکمت کے نہ ہو اور ہر بات کرنے سے پہلے سوچتا ہے کہ میں کیوں اسے کرنے لگا ہوں اور اس کے کیا فوائد ہیں۔اگر وہ قدم اٹھاتا ہے تو پہلے سوچتا ہے ہمیں کیوں قدم اٹھانے لگا ہوں۔اگر وہ ہاتھ اٹھاتا ہے تو سوچ لیتا ہے۔ہاتھ اٹھانے کی کیا غرض و غایت ہے۔تو ضروری ہے کہ جو روزہ رکھے وہ بھی اس کی غرض و غایت سے واقف ہو۔اگر واقف نہیں تو پھر یہ اس کی بچپن کی سی بات ہو گی۔بے شک وہ بڑا تو ہو گیا۔مگر کام بچوں کے سے ہی کرتا ہے۔جس طرح بچے بغیر سوچے سمجھے اور بغیر حکمت جانے کام کرتے ہیں۔اسی طرح سے وہ کرتا ہے۔رمضان میں دس سے چودہ گھنٹے تک بلکہ ہمارے ملک میں بارہ سے سولہ گھنٹہ تک انسان بھوکا رہتا ہے۔نہ کھاتا ہے نہ پیتا ہے۔لیکن یہ نہیں جانتا کہ میں کیوں بھوکا پیاسا رہتا ہوں۔تو اس کی بھی وہی حالت ہے۔جو ان بچوں کی ہوتی ہے جو بڑوں کو دیکھ کر اصرار کرتے ہیں ہم بھی روزہ رکھیں گے وہ یہ نہیں جانتے کہ روزہ کے فائدے کیا ہیں۔وہ اس بات پر غور نہیں کرتے کہ اس کی حکمت