خطبات محمود (جلد 11) — Page 548
خطبات محمود ۵۴۸ سال 1927ء نہیں۔انسانی وجود ہی ہے پانچ چھ فٹ کا انسان ہے اس کے جسم کے متعلق ہی نئی نئی باتیں نکلتی رہتی ہیں۔تو خدا تعالی کے کلام کی کوئی حد بندی نہیں کر سکتا۔اس وقت میں اس آیت کے ایک ایسے معنی کی طرف آپ لوگوں کو توجہ دلاتا ہوں جو عام لوگوں کو معلوم نہیں ہیں۔انسانی طبیعت کا میلان اگر انسان کی طبیعت کی طرف دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ عام طور پر دو چیزوں میں سے ایک چیز کی طرف جھکی ہوئی ہوتی ہے۔بعض لوگوں کا میلان خوشی اور امید کی طرف ہوتا ہے اور بعض کا رنج اور نا امیدی کی طرف۔جن لوگوں کا میلان خوشی کی طرف ہوتا ہے ان کو ہم دیکھتے ہیں کہ مصیبت اور دکھ کے وقت بھی خوش و خرم ہی نظر آتے ہیں۔چھوٹی عمر میں میں حضرت خلیفہ اول کے پاس قرآن کریم کے معنی پڑھنے کے لئے جایا کرتا تھا۔ایک دن آپ نے مجھے ایک عورت کی طرف اشارہ کر کے بتایا کہ اس کو ہر بات پر خواہ وہ خوشی کی ہو یا غمی کی ہنسی ہی آتی ہے۔چنانچہ آپ نے میرے سامنے اس سے پوچھا تیرے بڑے بیٹے کا کیا حال ہے؟ اس کے جواب میں اس نے بنتے بنتے اور جس طرح عورتوں کی عادت ہوتی ہے کہ بات کرتے وقت شرم ہے اپنے منہ کو ڈھانپ لیتی ہیں اسی طرح اس نے منہ پر ہاتھ رکھ کر کہا وہ تو مر گیا ہے۔اسی طرح آپ نے اس کے تین چار اور رشتہ داروں کے نام لئے۔ہر دفعہ وہ ہنس کر کے وہ مر گیا ہے۔آپ نے مجھے بتایا کہ یہ ایک بیماری ہے۔تو ایک اس قسم کے لوگ ہوتے ہیں اور دوسرے ایسے کہ ہر حال میں روتے اور چلاتے رہتے ہیں۔ان کا نقصان ہو تو روتے ہیں بیٹا پیدا ہو تو روتے ہیں کہ کہاں سے کھلا ئیں گے ؟ آگے ہی بہت ساکنبہ ہے۔شادی ہو تو روتے ہیں کہ لڑکی کو اس کے والدین نے یہ نہیں دیا دہ نہیں دیا خود لڑکی بیاہتے ہیں تو روتے ہیں کہ زیور کہاں سے دیں ؟ ان کی ترقی ہو تو روتے ہیں۔تنزل ہو تو روتے ہیں۔مال مل جائے تو خوش نہیں ہوتے کہ دنیا کے بکھیڑے بڑھتے جاتے ہیں۔مال چلا جائے تو چلاتے ہیں۔لیکن یہ عادت کسی میں نمایاں طور پر نظر آتی ہے اور کسی میں کم۔اور سوائے ان لوگوں کے جو خدا تعالیٰ کے ہو کر صراط مستقیم پر قائم ہو جاتے ہیں دنیا میں ایسے ہی لوگ ملیں گے جو ان دونوں قسموں کے آدمیوں میں سے ایک قسم میں داخل ہوں۔اس کا نتیجہ کیا ہوتا ہے ؟ یہ کہ لوگ عجب میں مبتلا ہو جاتے اور تکبر کرنے لگ جاتے ہیں اور خدا تعالٰی سے مستغنی ہو جاتے ہیں۔وہ نہیں سمجھتے کہ ہمیں کچھ اور بھی حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔اور وہ نہیں جانتے کہ خدا بھی ہے جس کی مدد کی ہمیں ضرورت ہے۔وہ ہر کام اور ہر فعل میں اپنے ہی نفس پر نظر رکھتے یا دنیا کے اسباب ان