خطبات محمود (جلد 11) — Page 547
خطبات محمود ۵۴۷ سال 1927ء پھانک کائی اور اسے کھانا چاہا۔مگر جونہی اس کا ٹکڑا منہ میں ڈالا منہ بد مزا ہو گیا اور قریب تھا کہ اُلٹی ہو جاوے۔اس پر اس نے حیران ہو کے پوچھا۔لقمان تو نے یہ کیا کیا انہوں نے کہا اگر میں آپ کے ہاتھ سے لے کر منہ بنا تا تو مجھ سے زیادہ بے شرم کون ہو تا۔میں نے آپ کے ہاتھ سے اتنی میٹھی چیزیں کھائی ہیں آج اگر ایک کڑوی کھالی تو کیا ہوا۔تو خدا کے رستہ میں جب انسان نکلتا ہے اس وقت جو تکلیفیں اسے اٹھانی پڑیں انہیں خوشی سے برداشت کرنا چاہئے۔آپ لوگ خدا تعالٰی کے لئے یہاں آئے ہیں۔اس زمانہ کا سب سے بڑا انسان جس کے لئے آپ لوگ اپنے گھروں سے نکل سکتے تھے وہ فوت ہو چکا ہے۔اور اس کے بعد اس کا ایک جانشین بھی فوت ہو گیا ہے۔مگر آپ لوگ برابر ہر سال یہاں آتے ہیں۔جس سے ظاہر ہے کہ آپ کسی انسان کے لئے نہیں آتے بلکہ خدا کے لئے اپنے گھروں سے نکلتے ہیں۔اور خدا تعالٰی کے لئے جو شخص کوئی تکلیف اٹھائے اس سے زیادہ خوش قسمت کون ہو سکتا ہے؟ یہ آپ لوگوں کی بڑی خوش قسمتی ہے۔لیکن چونکہ انتظام میں بہتری اسی صورت میں ہو سکتی ہے کہ نقصوں اور کمیوں کا پتہ لگے اس لئے میں یہ بھی کہتا ہوں کہ جماعتوں کے سیکرٹری ان نقائص کو جو جلسہ کے انتظام میں انہیں معلوم ہوں لکھ بھیجیں۔تاکہ آئندہ ان کو دور کرنے کی تجاویز کی جائیں یہ کوئی بری بات نہیں بلکہ منتظمین جلسہ کی اعانت اور مدد ہے۔اس کے بعد میں اپنے دوستوں کو اس آیت کے قرآن کریم کے معانی کی وسعت مضمون کی طرف توجہ دلاتا ہوں جو ابھی میں نے پڑھی ہے اور وہ یہ ہے وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهِ نَفْسُهُ وَنَحْنُ أَقْرَبُ اليه مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ - خدا تعالٰی کے کلام کے کئی معنی ہوتے ہیں۔ایک صحابی کہتے ہیں کوئی شخص فقیہ نہیں ہو سکتا جب تک اس کو کم از کم ایک ایک آیت کے پچیس معنی نہ آئیں۔یہ کلام الہی کی کتنی بڑی وسعت ہے جو اس صحابی نے سمجھی ہے۔آج کل مسلمانوں کی یہ حالت ہو گئی ہے کہ جب کوئی معنی بیان کرے تو کہتے ہیں یہ تفسیر کبیر میں ہیں یا نہیں۔اگر نہیں تو یہ قرآن کریم میں تصرف کیا گیا ہے اور تصرف بدعت ہے۔حالانکہ صحابہ کا یہ حال ہے کہ ایک صحابی کہتے ہیں کہ فقیہ ہونے کے لئے قلیل سے قلیل یہ شرط ہے کہ ایک ایک آیت کے پچیس پچیس معنی آتے ہوں۔اور کثیر کی کوئی حد ہی نہیں اور جو خد اتعالیٰ کے کلام کی حد مقرر کرے وہ نادان ہے۔کیونکہ خدا تعالٰی کے فعل کی کوئی انسان حد نہیں مقرر کر سکتا۔دنیا میں کون سی چیز ہے جس کی حد کو لوگ پہنچ چکے ہیں ایک بھی