خطبات محمود (جلد 11) — Page 513
۵۱۳ سال ۱۹۲۸ء مٹی اٹھانے پر لڑائی جھگڑے ہوئے۔مدرسہ احمدیہ کے کمرے اس طرح بنے کہ کوئی کمرہ راتوں رات بنا لیا گیا اور کوئی اس وقت بنایا گیا جب مخالفت کرنے والوں کو موجود نہ پایا گیا۔سید احمد نور صاحب مولوی قطب الدین صاحب میاں نجم الدین صاحب وغیرہ کے جہاں مکانات ہیں وہاں لڑائیاں ہوئیں اور مٹی ڈالنے سے روکا گیا۔اب وہ زمانہ بدل گیا خدا تعالٰی نے یہاں جماعت زیادہ کر دی مگر سچی بات یہ ہے کہ مخالفت کے زمانہ میں جو لطف تھا وہ بعد میں نہ رہا۔مخالفت کے ایام میں خدا تعالی کی طرف زیادہ توجہ ہوتی اور مخالفین کے مقابلہ کے لئے۔لوگ مستعد ہوتے ہیں لیکن امن میں آپس میں لڑنے جھگڑنے لگ جاتے ہیں۔معلوم ہوتا ہے لڑائی کا مادہ بھی فطرت انسانی میں رکھا گیا ہے۔چنانچہ ملائکہ نے بھی انسانی پیدائش کے موقع پر کہا۔کیا ایسا وجود بنایا جائے گا جو سفک دم کرے گا؟ معلوم ہوتا ہے مفک دم اور فساد فی الارض انسان کے ساتھ لگے ہوئے ہیں۔آگے یہ باتیں کوئی نیکی کی خاطر کرتا ہے اور کوئی بدی کے لئے۔بات یہ ہے مارنا اور لڑنا انسان سے وابستہ ہے خواہ وہ نیکی کے لئے ہو خواہ بدی کے لئے۔اگر کوئی دشمن سے جا کر نہ لڑے تو ڈاکٹر کی صورت میں نشتر سے دوسروں کے جسموں کو چیرتا پھاڑتا ہے۔غرض انسان کے لئے مقابلہ کرنا اور لڑنا لازمی بات ہے۔جب اس کے لئے یہ رستہ بند ہو جاتا یا انسان خود بند کر لیتا ہے کہ غیروں سے لڑے تو پھر اپنوں سے لڑنا شروع کر دیتا ہے۔جب وہ غیروں سے لڑتا ہے تو اسے مظلومیت کی قدر معلوم ہوتی ہے۔اس وجہ سے وہ ظالم بنتا پسند نہیں کرتا۔بلکہ مظلوم بننا پسند کرتا ہے لیکن جب امن ہو جاتا ہے اور غیروں سے مقابلہ نہیں رہتا تو آپس میں لڑائی جھگڑا شروع کر دیتا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مخالفت کا ہونا بھی ضروری چیز ہے۔اور ہماری جماعت کے لوگوں کو مخالفتوں سے ڈرنا نہیں چاہئے اور کچی بات تو یہ ہے کہ جب تک اخلاق کی پوری پوری تربیت نہ ہو جائے اس وقت تک مخالفت کا ہونا ضروری ہوتا ہے۔بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو ایمان لانے کے ساتھ ہی اعلیٰ اخلاق حاصل کر لیتے ہیں۔جو لوگ ایمان لانے کے ساتھ ہی اخلاق میں پورا تغیر پیدا کر لیتے ہیں وہی صدیق ہوتے ہیں اور بہت کم ہوتے ہیں۔صدیق اسے کہتے ہیں جو منہ سے بات کہنے کے ساتھ ہی اعمال میں اسے جاری کر لیتا ہے۔اس میں تغیر انقلاب کے رنگ میں فوری پیدا ہوتا ہے۔مگر عام قاعدہ یہی ہے کہ تغیر ارتقاء کے ذریعہ یعنی تدریجی ہوتا ہے عام قانون ہے جب کسی انسان کو ایمان نصیب ہو تا ہے تو اس کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ اس کا منہ